شکایت کنندہ ونود گولے کا کہنا ہے کہ ’’ڈابریا روڈ کے قریب جھاڑیوں میں بڑی تعداد میں آدھار کارڈ بکھرے پڑے تھے۔ انہوں نے ایس ڈی ایم کو اس کی اطلاع دی تھی۔ اس سے پہلے کئی کارڈوں کو کچھ راہگیر اور بچے بھی کھیلنے کے لیے اٹھا کر لے گئے۔ ان اصل آدھار کارڈ کا مختلف قسم کے فراڈ اور جرائم کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’کئی لوگ اپنے کارڈ کی ترسیل کی امید میں گھر پر ہی انتظار کر تے رہے لیکن انہیں نہیں ملا۔ محکمہ ڈاک کی لاپرواہی کی وجہ سے آدھار کارڈ تقسیم نہیں ہوئے اور اس طرح انہیں کوڑے میں پھینک دیا گیا۔ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہونا چاہئے۔‘‘
