
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مراکش میں حکومت مخالف مظاہروں نے پرتشدد رخ اختیار کرلیا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی حکام نے اس واقعے کو ان مظاہروں کا خطرناک موڑ قرار دیا ہے، جو ابتدائی طور پر سماجی انصاف اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مطالبات پر مبنی تھے۔
ہفتے کے روز شروع ہونے والے مظاہروں کی قیادت ایک نامعلوم آن لائن گروپ “GenZ 212” کر رہا ہے، جس نے نوجوانوں کو صحت، تعلیم اور روزگار کے مسائل پر آواز بلند کرنے کے لیے منظم کیا۔ اس گروپ کی مقبولیت میں حیران کن اضافہ ہوا ہے، اور اس کے Discord سرور کے ممبران ایک ہفتے میں 3 ہزار سے بڑھ کر 1 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کرچکے ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق، مظاہرین نے ایک پولیس چوکی پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی۔ وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ منگل کی شب ہونے والی جھڑپوں میں 263 سیکیورٹی اہلکار اور 23 شہری زخمی ہوئے۔
احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں کو نظرانداز کرکے بجٹ کا بڑا حصہ اسپورٹس اسٹیڈیمز اور بین الاقوامی مقابلوں پر خرچ کیا جارہا ہے۔ مظاہرین نے “اسٹیڈیم تو بن گئے، مگر اسپتال کہاں ہیں؟” کے نعرے لگائے۔
یہ مظاہرے سب سے پہلے شہر آگادیر میں اسپتالوں کی خراب حالت کے خلاف شروع ہوئے، جو بعد ازاں ملک کے دیگر شہروں تک پھیل گئے۔ مظاہرین نے طبی سہولیات کی کمی، اسپتالوں میں عملے کی قلت اور طبی وسائل کی عدم دستیابی پر شدید احتجاج کیا۔
قومی ادارہ شماریات کے مطابق، مراکش میں مجموعی بیروزگاری کی شرح 12.8 فیصد ہے، جب کہ نوجوانوں میں یہ شرح 35.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جن میں 19 فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شامل ہیں۔
