یہ معاملہ نہ صرف مذہبی جذبات بلکہ زمین کی ملکیت اور تاریخی حیثیت سے بھی جڑا ہے۔ مسلمانوں کا موقف ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کئی صدیوں سے قائم ہے اور اس کی تاریخی اور قانونی حیثیت مسلمہ ہے۔ ان کے مطابق مسجد کے قیام پر سوال اٹھانا مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ مسلم فریق کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ مقدمات میں مسجد کے وجود اور اس پر عبادت کے حق کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط قانونی بنیاد موجود ہے۔
دوسری طرف ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ موجودہ مسجد اسی جگہ تعمیر کی گئی جہاں پہلے قدیم کیشو دیو مندر ہوا کرتا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ 17ویں صدی میں مغل بادشاہ اورنگزیب نے اس مندر کو منہدم کر کے اس جگہ مسجد بنوائی۔ ہندو فریق نہ صرف مندر کے دوبارہ تعمیر اور زمین کے مالکانہ حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے بلکہ اس پورے احاطے میں پوجا پاٹھ کے حق کے لیے بھی عدالت سے رجوع کر چکا ہے۔
