
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اربعین مارچ میں شرکت کے بعد اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امام حسینؑ کی جدوجہد میں وہ ابدی سبق موجود ہے جو ہر مسلمان کو خصوصا دشمنوں کا سامنا کرتے وقت، دل سے سننا اور سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ مجھے سعادت حاصل ہوئی کہ میں عاشقانِ اہل بیتؑ کے اس بحرِ بیکراں کا حصہ بنوں، جو حضرت محمد مصطفیٰ ص کے نواسے کی یاد میں اربعین کے موقع پر کربلا میں جمع ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم عراق کے مقدس مقامات کو عتبات عالیات کہتے ہیں۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ یہ مقامات ہمیں آخرت کی یاد دلاتے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ ہمیں دکھاتے ہیں کہ کس طرح مختلف اقوام کے درمیان اخوت، ہم آہنگی اور یکجہتی ممکن ہے۔
عراقچی نے امام حسینؑ کی قربانی کو طاقت یا ذاتی مفاد کی جنگ کے بجائے ظلم و جبر کے خلاف ایک اصولی موقف قرار دیا اور کہا کہ امام عالی مقام کی بے مثال قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب دشمن ہمارے صبر، طاقت اور استقلال کو چیلنج کریں، تب حسینیؑ فکر اور قربانی کو مشعل راہ بناکر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔
