
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صحافی اور سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے کہا ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت کی حدود کو سمجھنا شروع ہو گیا ہے، کیونکہ وہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی پسند کرے یا نہ کرے، ایران فلسطینیوں اور لبنان کے عوام کی حمایت میں منفرد کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک اس صورتحال کو تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں لیکن عملی اقدام نہیں کر رہے۔
کارلسن نے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس جدید فوج، طاقتور بحری بیڑے اور اربوں ڈالر مالیت کے طیارہ بردار جہاز موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ امریکہ مستقبل میں یہ مقصد حاصل کر لے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے یہ سبق ملتا ہے کہ فوجی طاقت کی بھی حدود ہوتی ہیں اور بعض اہداف ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف عسکری قوت کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
امریکی صحافی نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ صرف ان کی قیادت یا صلاحیت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ امریکہ کو اپنی طاقت کی حدود کا اندازہ ہورہا ہے۔ اگر کسی معاہدے کے بارے میں بار بار اعلان کیا جائے لیکن وہ عملی شکل اختیار نہ کرے تو اس سے مؤثر سفارت کاری ثابت نہیں ہوتی۔
