احمد آباد طیارہ حادثہ: ’پائلٹوں کو قصوروار نہ ٹھہرایا جائے‘، پائلٹ تنظیم کی جامع تحقیقات کا مطالبہ

کیپٹن رندھاوا کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ایک حلقے نے اس تاثر کو فروغ دیا کہ پائلٹوں نے جلدبازی میں انجن بند کر دیے تھے، جبکہ ابھی تک حادثے کے تمام تکنیکی پہلوؤں کی مکمل جانچ نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق تحقیقات کو صرف فیول کنٹرول سوئچ تک محدود رکھنے کے بجائے طیارے کے برقی، الیکٹرانک اور کمپیوٹر نظاموں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بوئنگ 787 طیاروں میں ماضی میں بھی برقی نظام سے متعلق مختلف مسائل سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں لیتھیم بیٹری سے متعلق خرابیاں، برقی آگ لگنے کے واقعات، پانی کے رساؤ اور الیکٹرانک حصوں میں پانی بھر جانے جیسے معاملات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے روز ویانا سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی ایک اور بوئنگ 787 پرواز میں بھی برقی شارٹ سرکٹ اور الیکٹرانک حصے میں پانی داخل ہونے کی اطلاع ملی تھی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *