غیر مسلح ہونا خودکشی ہے، ہم خودکشی نہیں کریں گے، مقاومتی رکن پارلیمنٹ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ میں مقاومتی بلاک کے سربراہ محمد رعد نے کہا ہے کہ مزاحمتی گروہوں سے ہتھیار واپس لینے کا فیصلہ جلد بازی میں اور بیرونی قوتوں کے اشارے پر کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ قومی معاہدے کے منافی ہے اور جو لوگ اس پر عمل پیرا ہیں وہ خود کہتے ہیں کہ انہیں دباؤ میں آکر ایسا کرنا پڑا ہے۔

محمد رعد نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ لبنان کی خودمختاری کے لیے خطرناک ہے اور دشمن کو اندرونی استحکام تباہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ مزاحمتی ہتھیار 1982 سے لے کر 2025 تک لبنان کی حفاظت کرتے آئے ہیں، مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرایا ہے، توازن برقرار رکھا ہے اور دشمن کی جارحیت کے منصوبے ناکام کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کی حوالگی کا مطلب اپنی عزت اور شرافت کا سودا ہے۔ یہ خودکشی کے مترادف ہے اور ہم خودکشی نہیں کریں گے۔

رعد نے کہا کہ جو بھی ہتھیار واپس کرے گا، وہ اپنی عزت اور شرافت بھی داؤ پر لگارہا ہے۔ انہوں نے فوجیوں سے سوال کیا کہ کیا وہ اپنے ہتھیار، جو ان کی عزت و ناموس ہیں، واپس کریں گے؟ ہتھیار واپس کرنا خودکشی ہے، اور پھر کون ملک کی حفاظت کرے گا؟

انہوں نے واضح کیا کہ یہ ہتھیار جائز اور قانونی ہیں، تین دہائیوں سے قانونی قرار دیے گئے ہیں، اب اچانک غیر قانونی کیسے ہو گئے؟ دشمن اپنی طاقت بڑھانے میں کامیاب ہے مگر مزاحمت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔

محمد رعد نے کہا کہ ہم ہتھیاروں کو حکومت کی ملکیت میں رکھنے کے حامی ہیں بشرطیکہ حکومت قابض فورسز کو ملک سے باہر نکالے اور ملک کی حفاظت کرے۔ امریکی اور علاقائی وفود اس ہتھیار واپس کرنے کے فیصلے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل جلد بازی پر زور دے رہے ہیں کیونکہ وقت ان کے حق میں نہیں۔

محمد رعد نے کہا ہے کہ لبنان کی مزاحمتی تنظیموں کے ہتھیار ملک کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں اور انہیں واپس کرنا خودکشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت کے ہتھیار واپس لینے کے فیصلے کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملک میں امن و استحکام کو خطرہ ہوگا۔

رعد نے کہا کہ حزب اللہ حکومت میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ خود کرے گی اور ان کی حمایت صرف اسی وقت ہے جب ملک کی حفاظت ہو۔ انہوں نے اپنے اور لبنانی پارلیمنٹ کے صدر نبیہ بری کے تعلقات کو مضبوط بتایا اور اختلافات کی باتوں کو غلط فہمی قرار دیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *