مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، “وعدہ صادق 3” آپریشن کی بیسویں لہر مختلف اقسام کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے مائع اور ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کے امتزاج سے، تباہ کن وارہیڈز کی طاقت کے ساتھ اور دشمن کے دفاعی حصار کو عبور کرنے کی نئی حکمت عملیوں کے ذریعے درج ذیل اہداف کے خلاف شروع کی گئی:
بن گورین ایئرپورٹس
صہیونی حکومت کے حیاتیاتی تحقیقاتی مراکز
صہیونی حکومت کے سپورٹ بیسز اور مختلف سطحوں پر کنٹرول اور کمانڈ کے مراکز
عبرانی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ ایران نے تل ابیب کے خلاف اب تک کا شدید ترین حملہ کیا ہے۔

اسرائیل کی ایرانی میزائلوں کو روکنے کی دفاعی صلاحیت کم ہو گئی ہے
غاصب صہیونی حکومت کی فوج آج ایران کے میزائل حملے کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیت میں کمی کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے۔
“یسرائیل هایوم” نے مزید لکھا کہ آج کے ایرانی حملے میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی میزائلوں کو روکنے کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔
اس سے قبل بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ صہیونی حکومت کے دفاعی نظام میں خلل پیدا ہوا ہے اور حیفا میں خطرے کے سائرن بھی بروقت فعال نہیں ہو سکے۔
ایرانی میزائل حملوں کی تصاویر اور معلومات شیئر نہ کریں
قابض صہیونی حکومت کی فوج کے ترجمان نے مقبوضہ علاقوں کے باشندوں سے درخواست کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے میزائل حملوں سے متعلق کوئی بھی معلومات یا تصاویر شائع یا شیئر نہ کریں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے صہیونی جارحیت کے جواب میں آج ایک نئی میزائل کارروائی کے دوران ایران کی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں کے مختلف مقامات، جن میں حیفا بھی شامل ہے، کو نشانہ بنایا۔
اسی کے ساتھ، خطرے کے سائرن مقبوضہ جولان (جنوبی شام) اور الجلیلِ اعلیٰ جیسے علاقوں میں بھی بجائے گئے۔
اسرائیل پر حملے میں پہلی بار “خیبر میزائل” کا استعمال
ایران کی مسلح افواج کی جانب سے صہیونی حکومت کے فوجی اہداف پر بیسویں بڑی میزائل اور ڈرون حملے کی لہر انجام دی گئی۔
سپاہ نیوز چینل نے ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ خیبر میزائل پہلی بار اس آپریشن میں مقبوضہ علاقوں کی جانب فائر کیا گیا۔
