بہرحال، جس معاملے میں شیخ حسینہ کو دفاع کے لیے وکیل مہیا کرایا گیا ہے، وہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی سے منسلک ہے۔ یونس حکومت کا کہنا ہے کہ حسینہ نے لیڈران سے فون پر بات چیت میں عدالت کے خلاف نازیبا تبصرہ کیا، اور بات چیت سے جڑے سبھی ثبوت حقیقت پر مبنی ہیں۔ اس معاملے میں حکومت کے وکیل سے عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ نے قانون کے مطابق اس مقدمہ میں ’نیائے متر‘ کا انتخاب کیا ہے؟ کیا آپ نے فریق دفاع کو وکیل مہیا کرایا ہے؟ اس پر یونس حکومت کے وکیل بغلیں جھانکنے لگے۔ پھر عدالت نے کہا کہ فوراً ان سبھی کی تقرری ہو، پھر ہم مقدمہ کی آگے سماعت کریں گے۔ عدالت نے سینئر وکیل مسیح الزماں کو نیائے متر بھی مقرر کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں تختہ پلٹ کے بعد شیخ حسینہ کو پہلی بار ملی خوشخبری، مقدمہ لڑنے کے لیے وکیل مہیا
