
نئی دہلی: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے ساتھ معاملات طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک مرحلے پر ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ منسوخ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا تاہم آخری لمحوں میں یہ بحران ٹل گیا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ معاہدے سے چند گھنٹے قبل نیتن یاہو کی ہدایت پر اسرائیلی فوج نے لبنان پر حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں ایران نے شدید اعتراض اٹھایا اور معاہدے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے معاہدے میں کئی گھنٹوں کی تاخیر ہوئی تاہم بالآخر دونوں فریق اتفاق رائے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔امریکی صدر نے کہا ’’نیتن یاہو کے ساتھ معاملہ کرنا بہت مشکل ہے۔
حقیقت میں انہیں امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آجاتے تو اسرائیل دو گھنٹوں کے اندر صفحۂ ہستی سے مٹ سکتا تھا۔‘‘ٹرمپ نے مزید بتایا کہ حال ہی میں ایران اور امریکہ کے
درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے تمام قسم کی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو کیے جائیں گے۔
دونوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ جنگی کشیدگی کے مستقل خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ دستخطی تقریب کے موقع پر **آبنائے ہرمز** سے متعلق جامع رہنما خطوط بھی جاری کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے ایرانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ ایرانی حکمران دور اندیشی اور دانشمندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی ممکن ہوئی ہے۔
