ایران-امریکا جنگ بندی معاہدے کا عالمی خیرمقدم، صہیونی میڈیا میں غم و غصہ

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق طے پانے والے معاہدے کو دنیا بھر میں خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ صہیونی میڈیا اس معاہدے پر شدید ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے اپنے بیان میں اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے شہید رہبر کی قیادت میں امریکی اور صہیونی دشمن کے مقابلے میں اپنی برتری کو مزید مستحکم کیا ہے اور اعلیٰ قیادت کی تدابیر، عوامی حمایت اور اسلامی مجاہدین کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں کئی ماہ پر محیط مشکل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکراتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی ہے۔

بیان کے مطابق طے پانے والے معاہدے کے تحت آج رات سے تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ اور فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کر دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ایران کے خلاف عائد بحری محاصرہ بھی فوری اور مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ یہ مفاہمتی یادداشت آئندہ جمعہ کو باضابطہ طور پر دستخط کے مرحلے میں داخل ہوگی۔

ٹرمپ کو علامتی کامیابی دینے سے ایران کا انکار

اس حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی سالگرہ کے روز تہران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہونے کی صورت میں کوئی علامتی کامیابی دینے سے انکار کر دیا۔

رپورٹ میں ایرانی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ کی سالگرہ تھی، تاہم تہران نے جان بوجھ کر نصف شب گزرنے کا انتظار کیا اور اس کے بعد معاہدے کو حتمی شکل دی، کیونکہ ایران نہیں چاہتا تھا کہ یہ پیش رفت ٹرمپ کی سالگرہ کے دن سے منسوب ہو۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ساڑھے سات گھنٹے کے وقت کے فرق نے تہران کو معاہدے کے وقت کے تعین کا موقع فراہم کیا اور یوں یہ معاہدہ ایران میں پیر کے ابتدائی اوقات میں مکمل ہوا۔

اقوام متحدہ کا ردعمل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوتریش نے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کو خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے فریق موجودہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی تنازعات کے مستقل حل کے لیے اپنی کوششوں میں مزید اضافہ کریں گے۔

گوتریش نے اس موقع کو استحکام کے فروغ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کرنے پر بھی زور دیا۔

واشنگٹن اور تہران کے معاہدے کا لندن کی جانب سے خیرمقدم

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے پر ردِعمل دیتے ہوئے اس سفارتی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور اسے کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے ایک سرکاری بیان میں قطر، پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی بھی تعریف کی، جنہوں نے اس معاہدے کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔

اسٹارمر نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ جنگ کے خاتمے، علاقائی استحکام کے قیام اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی جانب ایک نہایت اہم قدم ہے۔ اب توجہ مفاہمتی یادداشت کے مکمل نفاذ پر مرکوز ہونی چاہیے تاکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے اور یہ آبی گزرگاہ مستقل طور پر کھلی رہے۔

ایران پر پابندیاں اٹھانے سے متعلق برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کا مشترکہ بیان

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کی جانب سے عملی اقدامات کے بدلے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔

چاروں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم ایران کی جانب سے جوہری معاملے میں واضح اقدامات کے جواب میں پابندیاں ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایران-امریکا معاہدے پر میکرون کا خیرمقدم

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے متعدد ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا۔

انہوں نے اس معاہدے کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی اور سمندری آمدورفت کی بلا رکاوٹ بحالی علاقائی استحکام اور عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔

جاپان، ترکیہ اور آسٹریلیا کا خیرمقدم

جاپان کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہم امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنیوں کے خاتمے کے مقصد سے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ترکیہ کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہم امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اسے خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم سمجھتے ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ آسٹریلیا ہمیشہ کشیدگی میں کمی اور لبنان سمیت جاری تنازعات کے خاتمے کا حامی رہا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے عملی اقدامات بھی شامل ہیں۔

ایران اور لبنان کے محاذوں کے حوالے سے ٹرمپ ناکام رہے، صہیونی میڈیا

صہیونی میڈیا آئی 24 نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ صہیونی حکومت کے وزراء کا ماننا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان کے محاذ کو ایران کے محاذ سے الگ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ لبنان اور ایران کے محاذ آپس میں براہِ راست جڑے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔

معاہدے پر صہیونی میڈیا کا غم و غصہ

صہیونی ٹی وی چینل آئی 24 نے واشنگٹن کی نئی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران ایران کو بہت سی رعایتیں دے دیں، جبکہ اس کے بدلے میں کوئی ٹھوس کامیابی حاصل نہیں کی۔ چینل کے مطابق اس طرزِ عمل نے طاقت کے توازن کو تہران کے حق میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسی تناظر میں عبری چینل 14 نے بھی شدید اور منفی ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر کی حالیہ پالیسیوں کو تل ابیب کے مفادات کے لیے ایک دھچکا قرار دیا۔

صہیونی میڈیا ادارے نے وائٹ ہاؤس کے نئے طرزِ عمل کا تجزیہ کرنے میں اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ٹرمپ نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ اتنا بڑا اور افسوسناک واقعہ ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کو بیان اور واضح کرنا مشکل ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ معاہدہ ایرانیوں کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے، کیونکہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہوگی، یعنی اس مفاہمت کے مطابق اسرائیل کو فوراً لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔

دیگر عبری پلیٹ فارمز نے بھی لکھا ہے کہ بظاہر اس معاہدے میں لبنان سے انخلا بھی شامل ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *