لاس اینجلس کی میئر کرن باس نے حالات کے پیش نظر محدود کرفیو کا اعلان کیا تھا، جو منگل رات 8 بجے سے بدھ صبح 6 بجے تک نافذ رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دن میں مظاہرے پرامن رہے لیکن رات کے وقت بدامنی اور لوٹ مار کے واقعات نے پولیس کو فوری کارروائی پر مجبور کر دیا۔
مظاہروں کی شدت کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیشنل گارڈ کے 4 ہزار سے زائد اہلکاروں اور 700 میرینز کو لاس اینجلس روانہ کیا۔ انہوں نے مظاہرین کے اقدامات کو ’امن عامہ پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے بغاوت کے قانون کی ممکنہ نفاذ کی دھمکی دی، جو فوج کو ملک کے اندر سکیورٹی کی صورتحال سنبھالنے کا اختیار دیتا ہے۔
