وقف ترمیمی قانون اور دہشتگردی کے خلاف ہندوستانی مشورتی کونسل، طلاب و علمائے قم کااحتجاج

 

قم المقدسہ ایران میں وقف ترمیمی قانون اور دہشتگردی کے خلاف ہندوستانی علما کا احتجاج

مورخہ ۱۲ مئی ۲۰۲۵ کو ایران میں حوزہ علمیہ قم کے ہندوستانی علما اور طلبا نے وقف ترمیمی قانون اور مظلوموں کو نشانہ بنانے والی دہشتگردانہ کاروائیوں کے خلاف احتجاجی اجتماع منعقد کیا۔

کثیر تعداد میں اس احتجاجی اجتماع میں شرکت کر کے جہاں علما اور طلبا نے پہلگام پر ہوئے دہشتگردانہ حملے کی مذمت کی اور ملک کی سالمیت کے تحفظ کے لئے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا، وہیں وقف ترمیمی قانون کو بھی ملک کی سالمیت، یکجہتی اور استحکام کے لئے خطرناک اور تباہ کن بتاتے ہوئے حکومت ہند سے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس احتجاجی پروگرام کی نظامت مولانا سید حیدر عباس زیدی صاحب نے کی۔

قم کے مدرسہ حجتیہ میں منعقد ہوئے اس احتجاجی جلسے میں مولانا سید عاکف زیدی اور مولانا سید جون عابدی نے ٹاک شو کی صورت میں گفتگو کرتے ہوئے حاضرین کو وقف ترمیمی قانون کی کمزوریوں اور خطرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قانون جو مسلمانوں کی بھلائی کے نام پر لایا گیا ہے، درحقیقت ہندوستانی مسلمانوں کے وجود اور شناخت پر بلڈوزر چلانے کے مترادف ہے۔
مولانا سید عاکف زیدی نے ٣٠ اپریل کے کامیاب “بتی گل” مظاہرے کو وقف ترمیمی بل کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کی سمجھداری اور یکجہتی کی علامت قرار دیتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کو اس معاملے میں اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹانا چاہئے، اور سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کی طرح بھرپور انداز میں اپنے قانونی حق کا مطالبہ کرتے ہوئے، اپنی آواز بلند کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل کو محفوظ کر سکیں۔

سید عاکف زیدی صاحب نے اپنے بیان میں اس بات کا بھی اظہار کیا کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کے ہی خلاف نہیں بلکہ آئین کے بھی خلاف ہے اور ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے۔ اسی لئے اس کی مخالفت نہ صرف مسلمانوں کی جانب سے ہو رہی ہے بلکہ باشعور غیر مسلم ہندوستانیوں کی بڑی تعداد بھی اس کے خلاف ہے، جس کی پارلیمنٹ میں ہوئی بحث اور سپریم کورٹ میں داخل کی گئی عرضیاں گواہ ہیں۔

اس اجتماع میں قائد ملت جعفریہ ہند اور ہندوستان میں وقف تحریک کے روح رواں مولانا سید کلب جواد نقوی صاحب نے بھی شرکت کی اور اپنی تقریر میں ہندوستانی علما اور طلبا کو وقف قانون کے تئیں زمینی حقائق سے آگاہ کیا، اور اس کے خلاف مسلمانوں کی یکجہتی اور مضبوط عزم و ارادے سے باخبر کیا۔

مولانا سید کلب جواد صاحب نے بتایا کہ یہ قانون مسلمانوں کے لئے ایک ایسا زہر ہے جو ان کے وجود کے لئے خطرہ ہے اور اس لئے ہندوستان کی ملت اسلامیہ اور دیگر سمجھدار اور وطن دوست عناصر آخری سانس تک اس کے خلاف لڑتے رہیں گے، اور اپنے قانونی اور بنیادی حق کے حصول کے لئے ہر طرح کی قربانی بھی دینے کو تیار ہیں۔

مولانا نے علمائے قم کے اس احتجاج کو سراہتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں صرف چند مولوی ہی وقف ترمیمی قانون کے خلاف ہیں انہیں آگاہ ہونا چاہئے کہ پورے ہندوستان کے علما اپنے اپنے علاقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس احتجاج میں شریک ہیں اور اس طرح بتا رہے ہیں کہ پورے ہندوستان کے مسلمان اس قانون کے مخالف ہیں۔

اپنی تقریر کے آخر میں مولانا سید کلب جواد صاحب نے پہلگام میں ہوئے دہشتگردانہ حملے کی پر زور مذمت کی اور دہشتگردی کے خلاف حکومت ہند کی طرف سے ہونے والی معقول کاروائیوں کی بھی حمایت کی، لیکن ساتھ ہی اس بات کی طرف بھی متوجہ کیا کہ وہ بے گناہوں پر ظلم کی حمایت نہیں کرتے۔

ہندوستانی علما اور طلبا کی مشورتی کونسل کی جانب سے منعقد ہوئے اس احتجاجی پروگرام کے آخر میں مولانا اقبال حیدری صاحب نے میمورنڈم پڑھا جس میں وطن عزیز میں ہونے والی ہر قسم کی دہشتگردانہ کاروائی کی مذمت کی گئی اور ساتھ ہی حکومت ہند سے وقف ترمیمی قانون کو واپس لینے کا پر زور مطالبہ کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *