سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے مرکزی حکومت کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا، ’’حکومت اس عرضی کو دوسری صورت میں نہیں لے رہی ہے۔ میری فکر اس بات کو لے کر ہے کہ بچے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان پروگرام کی زبان نہ صرف فحش ہے بلکہ بُری طرح بگڑی ہوئی ہے۔ دو مرد بھی اسے ایک ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔ صرف یہ شرط لگائی گئی ہے کہ 18 سال سے زیادہ عمر والے کے مواد ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچوں کی پہنچ اس مواد تک نہیں ہے۔
فحش مواد کو لے کر سپریم کورٹ سخت، مرکزی حکومت، سوشل میڈیا اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمس کو نوٹس جاری
