وقف ترمیمی قانون کو چیلنج پیش کرنے والی 70 سے زائد عرضیوں میں سے محض 5 اہم عرضیوں پر ہی سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ بقیہ عرضیوں کو انٹروینشن مانا جائے گا۔


تحفظ وقف، تصویر آئی اے این ایس
سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانون پر عبوری روک لگا دی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ فی الحال یہ قانون ٹھنڈے بستے میں چلا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے صاف صاف کہا ہے کہ جب تک یہ معاملہ عدالت کے سامنے زیر التوا ہے، تب تک حکومت اس قانون کے کسی بھی حصے کو نافذ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اس معاملے پر سماعت 5 مئی 2025 کو ہونی ہے، جس کے بعد نیا حکم صادر ہو سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کا عبوری حکم کیا ہے؟
-
وقف بائی یوزر جاری رہے گا: سپریم کورٹ نے صاف کیا ہے کہ جو جائیدادیں وقف کو دی گئی ہیں، ان کا ڈی نوٹیفکیشن نہیں ہوگا، اور نہ ہی ان کا دوبارہ رجسٹریشن ہوگا۔
-
کلکٹرس کو اضافی ذمہ داری نہیں: کلکٹر اپنا روٹین کام کرتے رہیں گے، انھیں وقف قانون سے متعلق کوئی اضافی ذمہ داری نہیں دی جائے گی۔
-
وقف بورڈ اور کونسل کی تشکیل نو پر پابندی: وقف بورڈ اور وقف کونسل کی تشکیل نو پر بھی عبوری روک لگا دی گئی ہے۔ یعنی ابھی جو انتظام ہے وہی جاری رہے گا۔
کن 5 عرضیوں پر ہوگی سماعت؟
سپریم کورٹ میں وقف معاملے کی سماعت کے لیے 5 اہم عرضیاں کون سی ہوں گی، اس کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ 17 اپریل کو معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس معاملے میں ابھی تک بہت سی عرضیاں (70 سے زائد) داخل ہو چکی ہیں اور لگاتار داخل ہو رہی ہیں۔ لگاتار داخل ہونے والی عرضیوں کے سبب سماعت میں دقت ہو سکتی ہے، اس لیے عرضی دہندگان کو مل کر 5 عرضیوں کو منتخب کر لینا چاہیے جو لیڈ عرضیاں مانی جائیں گی اور اہم سماعت انہی پر ہوگی۔ باقی عرضیں کو انٹروینشن یا امپلیڈمنٹ تصور کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے ذریعہ دیر رات جاری آرڈر میں جن 5 عرضیوں یعنی عرضی دہندگان کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ہیں ارشد مدنی، محمد جمیل مرچنٹ، محمد فضل الرحیم، شیخ نورالحسن، اسدالدین اویسی۔
مذکورہ بالا 5 عرضیوں کو منتخب کرنے کا فیصلہ کس طرح ہوا، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ لیڈر عرضیاں طے ہو جانے کا ایک مطلب یہ بھی ہوا کہ 5 مئی کو جب معاملے کی آئندہ سماعت ہوگی تو خصوصی طور سے انہی کے وکلاء عدالت میں بحث کریں گے۔ حالانکہ باقی عرضیوں کو انٹروینشن کا درجہ دیا گیا ہے، یعنی ان کے وکلاء بھی ضرورت پڑنے پر مداخلت کر سکیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ اور جسٹس پی وی سنجے کمار، جسٹس کے وی وشوناتھ کی بنچ اس معاملے پر سماعت کر رہی ہے۔ مرکز کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا دلیلیں پیش کر رہے ہیں، جبکہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف کپل سبل، راجیو دھون، ابھشیک منو سنگھوی، سی یو سنگھ وغیرہ دلیلیں رکھ رہے ہیں۔ لیڈ عرضیوں کے علاوہ عدالت نے 3 نوڈل کونسل مقرر کیے ہیں۔ ان میں سے ایک ہیں ایڈووکیٹ اعجاز احمد، جو عرضی دہندگان کی طرف سے نوڈل کونسل ہوں گے۔ ایڈووکیٹ کنو اگروال حکومت کی طرف سے نوڈل کونسل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایڈووکیٹ وشنو شنکر جین انٹروینشن کرنے والوں کی طرف سے نوڈل کونسل ہوں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
