واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستان پر 26 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے، جب کہ چین پر 34 فیصد، یورپی یونین پر 20 فیصد، جنوبی کوریا پر 25 فیصد، جاپان پر 24 فیصد، ویتنام پر 46 فیصد اور تائیوان پر 32 فیصد ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔
چین نے اس کے جواب میں امریکہ پر 34 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی ٹیرف وار سے اشیاء مہنگی ہوں گی، خریداری میں کمی آئے گی اور اس سے عالمی معیشت کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی پڑے گا۔
پون کھیڑا نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ وہ وقت ہے جب ہندوستان کو مضبوط اور متحرک قیادت کی ضرورت ہے، جو عالمی سطح پر اپنے موقف کا کھل کر اظہار کرے، نہ کہ خاموشی اختیار کرے۔
