کانگریس نے بی سیز کی آبادی کم کی – تمام ذاتوں کے درست اعدادوشمار پیش کئے جائیں : رکن کونسل کویتا

پسماندہ طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لئے بی آر ایس کی ہر ممکن جدوجہد

کانگریس نے بی سیز کی آبادی کم کی۔تمام ذاتوں کے درست اعدادوشمار پیش کئے جائیں

علیحدہ وزارت تا حال کیوں قائم نہیں کی گئی۔بلس کی پیشرفت کی وضاحت کی جائے

کاماریڈی ڈکلیریشن پر عمل آوری ناگزیر۔گول میز کانفرنس سے کے کویتا کا خطاب

 

کاماریڈی: تلنگانہ جاگروتی اور یونائیٹڈ پھولے فرنٹ کے زیر اہتمام کاماریڈی میں بی سی گول میز کانفرنس کاانعقاد عمل میں آیا۔صدر تلنگانہ جاگروتی و رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس کلواکنٹلہ کویتا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے کویتا نےبی سی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لئے بی آر ایس کی مسلسل جدوجہد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اسمبلی میں منظور کردہ بی سی بلس سے متعلق پیشرفت پر وضاحت پیش کرنی چاہئے اور کانگریس اور بی جے پی کو جواب دینا چاہئے کہ مرکز میں ان بلوں کو منظور کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کی قیادت میں کئے گئے جامع خاندانی سروے کے مطابق تلنگانہ میں بی سی برادری کی آبادی 52 فیصد ہے، لیکن کانگریس حکومت نے اپنے ذات پات پر مبنی سروے میں بی سی برادری کی تعداد کم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہر گاؤں اور ہر ذات کے حساب سے آبادی کےدرست اعداد و شمار کو عام کرے۔

 

کویتا نے کانگریس سے سوال کیا کہ پسماندہ طبقات کے لئے علیحدہ وزارت کے قیام کا وعدہ آج تک پورا کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ کاماریڈی ڈیکلریشن میں کانگریس نے صرف سیاسی ریزرویشن میں اضافہ کا وعدہ کیا تھاجبکہ بی آر ایس کی مسلسل جدوجہد کے باعث حکومت کو تعلیم اور ملازمت کے شعبوں میں بھی بی سی ریزرویشن بڑھانے کے لئے قانون سازی کرنی پڑی

 

۔انہوں نے نشاندہی کی کہ بی آر ایس کے دور میں بی سی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے 1,55,000 کروڑ روپئے سے زائد خرچ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب بی آر ایس حکومت نے بی سی برادری کے روایتی پیشوں کو مضبوط بنانے کے اقدامات کئے تو کچھ گوشوں نے اس کا مذاق اڑایا لیکن گزشتہ 15 مہینوں میں ان پیشوں کا زوال سب کے سامنے ہے۔بی آر ایس نے بی سی قیادت کو مستحکم کرنے کے لئے 5 افراد کو راجیہ سبھا، 8 افراد کو قانون ساز کونسل اور 58 افراد کو کارپوریشن چیئرمین کے عہدوں پر فائز کیا۔ کویتا نے واضح کیا کہ بی آر ایس پارٹی ہمیشہ سے ہی بی سی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لئے کھڑی رہی ہے

 

۔ انہوں نے مزید کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی پوزیشن کبھی بھی بی سی برادری کے فرد کو نہیں دی گئی تھی، لیکن بی آر ایس نے اپنے دور حکومت میں پہلی مرتبہ رَوِیندَر یادَو کو وائس چانسلر مقرر کیا۔ اسی طرح بی آر ایس حکومت نے بی سی طبقے سے تعلق رکھنے والے پرساد کو ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر نامزد کرکے ایک تاریخی فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت نے ڈبلیو ایس (Weaker Sections) ریزرویشن متعارف کرایا،

 

جس کے نتیجہ میں تلنگانہ میں موجودہ ریزرویشن 54 فیصد تک پہنچ چکا ہے چونکہ ریاست میں پہلے ہی 50 فیصد کی حد عبور ہو چکی ہے اس لئے کاماریڈی ڈیکلریشن پر فوری عمل درآمد ضروری ہے۔صدر جاگروتی کویتا نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی بی سی برادری کے حقوق اور ریزرویشن کے مکمل نفاذ کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور حکومت پر دباؤ ڈالتی رہے گی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *