شاہی جامع مسجد انتظامی کمیٹی کے صدر کی گرفتاری کے خلاف سنبھل میں وکلاء کا قلم رکھ دو احتجاج (ویڈیو)

سنبھل (آئی اے این ایس) شاہی جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی کے صدر اور سینئر وکیل ظفر علی کی گرفتاری کے خلاف سنبھل کے وکلاء نے پیر کے دن قلم رکھ دو (پین ڈاؤن) احتجاج کیا۔

اترپردیش ایس آئی ٹی نے ظفر علی کو 24 نومبر کے سنبھل تشدد کی مجرمانہ سازش کے سلسلہ میں کل گرفتار کیا تھا۔ تشددمیں 4 جانیں گئی تھیں اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے ظفر علی پر فسادیوں کو بھڑکانے کا الزام عائد کیا ہے۔ چند وکیلوں نے سنبھل کورٹ میں ظفر علی کی گرفتاری کی سخت مخالفت کی۔

انہوں نے مارکٹ میں جلوس بھی نکالا اور پولیس کے خلاف نعرے لگائے۔ میڈیا سے بات چیت میں وکیل شکیل احمد نے کہا کہ ظفر علی کی گرفتاری غلط ہے۔ ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں‘ الزامات بے بنیاد ہیں۔ وہ ہمارے سینئر ہیں اور تمام وکلاء ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ظلم و زیادتی جاری رہی تو احتجاج اترپردیش اور سارے ملک میں پھیل جائے گا۔

شکیل احمد نے کہا کہ ظفر علی کو اس لئے گرفتار کیا گیا تاکہ وہ آج لکھنو کورٹ میں پولیس کے خلاف بیان نہ دے سکیں۔ وکیلوں نے قلم رکھ دو احتجاج کیا۔ انہوں نے ظفر علی کی رہائی تک اپنی قانونی ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کردیا ہے۔

وکیل امیت اتبل نے کہا کہ ساری وکلاء برادری‘ پولیس کے خلاف متحد ہے۔ہم ظفر علی کے ساتھ کھرے ہیں اور ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ ظفر علی کی گرفتاری کے بعد شاہی جامع مسجد کے اطراف سیکوریٹی بڑھادی گئی۔ ریاپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور پروونشیل آرمڈ کانسٹیبلری (پی اے سی) تعینات کردی گئی۔ سی سی ٹی وی اور ڈرونس کے ذریعہ شہر میں نظر رکھی جارہی ہے۔





[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *