بنگلہ دیشی عوام بڑھتی مہنگائی سے بہت پریشان ہیں۔ اس مہنگائی کی وہج سے عید کی خوشی پھیکی ہو گئی ہے۔ حکومت دعوے تو بہت کر رہی ہے، لیکن مہنگائی پر قابو حاصل نہیں کر پا رہی۔
محمد یونس (فائل)، ویڈیو گریب
بنگلہ دیش میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت سے عوام نے جو امیدیں لگا رکھی تھیں، وہ دن بہ دن ٹوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔ عید کا تہوار قریب ہے، اس کے لیے عبوری حکومت نے سرکاری ملازمین کو 9 دنوں کی چھٹی دینے کا اعلان بھی کر دیا ہے، پھر بھی مسلم طبقہ فکر میں مبتلا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے رمضان کے مہینے میں ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ عید پر سرکاری ملازمت کرنے والے مسلمان پورے 9 دن چھٹی پر رہ سکتے ہیں۔ لیکن سرکاری ملازمین یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ عید پر ملنے والی یہ طویل چھٹی، محض چھٹی بن کر رہ جائے گی۔ عید کی جو خوشیاں وہ منا سکتے تھے، اس سے وہ محروم ہی رہیں گے۔ بنگلہ دیش میں دن بہ دن بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے اس مرتبہ سرکاری ملازمین ہی نہیں، عوام کی بھی عید پھیکی گزرنے والی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت کے بڑے بڑے دعووں کے باوجود مہنگائی پر کوئی کنٹرول دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
انگریزی روزنامہ ’دی ڈیلی اسٹار‘ کے مطابق بنگلہ دیش کے ہول سیل بازار میں آلو 30 ٹکا کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ہندوستانی کرنسی میں یہ تقریباً 22 روپے ہوتا ہے۔ اسی طرح چینی 120 ٹکا کلو فروخت ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں اس وقت پیاز کی قیمت 50 ٹکا فی کلو ہے۔ چکن کی قیمت بھی ملک میں بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق رمضان میں زیادہ طلب کی وجہ سے چکن کی قیمتوں میں 3 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ وہ بھی تب، جبکہ حکومت کئی مقامات پر خود اسٹال لگا کر چکن فروخت کر رہی ہے۔
بنگلہ دیش میں سویابین تیل اور دیگر خوردنی اشیا کی قیمتیں بھی آسمان چھو رہی ہیں۔ بازار میں بینگن 90 ٹکا کلو فروخت ہو رہا ہے اور ٹماٹر کی قیمت بھی 30 ٹکا فی کلو ہے۔ مسلم اکثریت ملک بنگلہ دیش میں اس مہنگائی نے عید کی خریداری کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش کے ہندوستان سے رشتے ٹھیک نہیں چل رہے، یہی وجہ ہے کہ مہنگائی میں کچھ زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عبوری حکومت کے ذریعہ ہندوستان سے تجارت کم کرنے کے فیصلے نے ملک میں مہنگائی والے حالات پیدا کر دیے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔