یہ تشدد دسمبر میں اسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد شروع ہوئی عدم استحکامیت کا حصہ ہے۔ اسلام پسند تنظیم حیاۃ التحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کرلیا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسد حامیوں کی جارحیت نئی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے جو ملک میں اتحاد اور عدم استحکام لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
شام میں حکومت اور اسد حامیوں کے درمیان خونی جھڑپیں، 200 سے زیادہ اموات
