روس میں پوتن سے عباس عراقچی کی ملاقات، امریکہ پر سخت تنقید، مذاکرات کے امکان کا اشارہ

انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ نے خود بات چیت کی درخواست کی ہے، جس پر ایران غور کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عراقچی نے اس موقع پر روس کو ایران کا اہم دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے کریملن کا شکریہ بھی ادا کیا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی اس ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے اسے مفید قرار دیا، جبکہ روسی میڈیا کے مطابق یہ گفتگو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس سے قبل روس نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا تھا کہ روس امن معاہدے تک پہنچنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *