ہندوستان میں امیر مزید امیر اور متوسط و غریب طبقات مزید غریب ہوتے جا رہے، ایک رپورٹ میں انکشاف

’مارسیلس انویسٹمنٹ مینیجرز‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان کا متوسط طبقہ مشکلات میں پھنستا جا رہا ہے۔ مہنگائی تو بڑھتی جا رہی ہے لیکن ان کی تنخواہ میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہو رہا۔

<div class="paragraphs"><p>غربت، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>غربت، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

غربت، تصویر آئی اے این ایس

user

ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت میں سے ایک ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستان کی آبادی تقریباً 1.4 ارب ہے، اور اتنی بڑی آبادی میں سے تقریباً 100 کروڑ لوگوں کی یہ حالت ہے کہ ان کے پاس اشیائے ضروریہ کے علاوہ کچھ بھی خریدنے کو پیسے نہیں ہیں۔ ’بلوم وینچرس‘ کی ایک نئی رپورٹ میں اس تعلق سے کچھ اہم انکشافات ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے والے لوگوں کی تعداد 14-13 کروڑ کے درمیان محدود ہے۔ یہ نمبر اترپردیش کی آبادی سے بھی کم ہے۔ اس کے علاوہ 30 کروڑ ایسے لوگ ہیں جو دھیرے دھیرے خرچ کرنا سیکھ رہے ہیں، لیکن ان کی جیبوں میں اتنے پیسے نہیں بچ رہے کہ وہ اضافی خرچ کر سکیں۔ ڈیجیٹل پیمنٹس نے ہندوستانی لوگوں کی خریداری کو آسان تو بنا دیا ہے، لیکن لوگوں کے خرچ کرنے کی عادتوں میں اب بھی پس و پیش کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ ہندوستان میں امیروں کی تعداد میں اس تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ نہیں ہو رہا ہے جتنی تیزی سے امیروں کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی جو پہلے سے امیر ہیں وہ مزید امیر ہوتے جا رہے ہیں، لیکن نئے امیروں کی تعداد میں خاصہ اضافہ نہیں ہو رہا۔ اس کا اثر براہ راست بازار پر پڑ رہا ہے۔ کمپنیاں اب سستی مصنوعات بنانے کے بجائے مہنگے اور پریمیم پروڈکٹس بنانے پر زور دے رہی ہیں۔ مثلاً لگژری اپارٹمنٹس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور سستے (قابل استطاعت) گھروں کی حصہ داری گزشتہ 5 سالوں میں 40 فیصد سے کم ہو کر صرف 18 فیصد رہ گئی ہے۔ قیمتی اسمارٹ فون تو تیزی سے فروخت ہو رہے ہیں، لیکن سستے ماڈل کے خریدار کم ہو گئے ہیں۔ کولڈ پلے اور ایڈ شیران جیسے بین الاقوامی ستاروں کے مہنگے کنسرٹ ٹکٹ پلک جھپکتے ہی فروخت ہو جاتے ہیں، لیکن عام لوگوں کے لیے تفریح مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔

’بی بی سی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق کووڈ 19 کے بعد ہندوستان کی معیشت کی بحالی ’k- شکل‘ کی رہی ہے۔ یعنی امیروں کے لیے اچھے دن آ گئے، لیکن غریبوں کی حالت اور خراب ہو گئی۔ اس کو اس طرح سمجھیے کہ 1990 میں ہندوستان کے سرفہرست 10 فیصد لوگ 34 فیصد قومی آمدنی کے مالک تھے۔ آج وہی 10 فیصد لوگ 57.7 فیصد قومی آمدنی کے مالک ہو گئے ہیں۔ ملک کے سب سے غریب 50 فیصد لوگوں کی آمدنی 22.2 فیصد سے کم ہو کر محض 15 فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی امیروں کے لیے دنیا اور چمکدار ہو گئی ہے جبکہ غریبوں کے لیے حالات پہلے سے مشکل ہو گئے ہیں۔

’مارسیلس انویسٹمنٹ مینیجرز‘ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کا متوسط طبقہ بھی مشکلات میں پھنستا جا رہا ہے۔ مہنگائی میں تو اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ان کی تنخواہ میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہو رہا۔ گزشتہ 10 سالوں میں ٹیکس دینے والے متوسط طبقے کی آمدنی عملی طور پر جمود کا شکار رہی ہے۔ یعنی مہنگائی کے حساب سے دیکھیں تو ان کی تنخواہ نصف ہو گئی ہے۔ اگر آج کی بات کریں تو متوسط طبقے کی بچت گزشتہ 50 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ لوگوں کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *