عادل آباد میونسپل جنرل باڈی اجلاس میں گرماگرم بحث ۔ کونسل میں میونسپل وائس چیئرمین ظہیر رمضانی نے بھی آواز بلند کرتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں

[]

عادل آباد۔29/فروری(اردو لیکس)مجلس بلدیہ عادل آباد کا جنرل باڈی اجلاس آج میونسپل کی نئی عمارت میں صدر نشین بلدیہ جوگوپریمیندر کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں رکن اسمبلی پایل شنکر نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر رکن اسمبلی پایل شنکر نے جہاں مختلف امور پر میونسپل عہدیداروں اور بی آر ایس پارٹی نمائندوں کی کارکردگی کو ناقص قرار دینے کی کوشش کی وہیں دوسری جانب نائب صدر نشین بلدیہ ظہیر رمضانی نے بھی اس موقع پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی کا استقبال بھی کیا اور پایل شنکر کو شہر کی ترقی اور ماضی میں کی گئی کارکردگی سے واقف کروایا

 

اور مختلف تجاویز بھی پیش کی۔اور باآواز بلند کہا کہ شہر مستقر میں واقع بیف مارکیٹ کے کاموں کو جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے پایل شنکر کی ایک تجویز کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ سلاٹر ہاؤس (مسلخ خانہ)کو شہر سے دور بنایا جاتا ہے تو اس سے متعلق افراد(قریشیوں)کو مسائل کا سامنا رہے گا۔لہذا اس کے لئے کوئی مناسب حل نکالنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے پرانے ٹیکس کو ریوائز کرتے ہوئے نیا ٹیکس نافذ کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ٹیکس وصول کئے جا رہے ہیں اُسی طرح سے وارڈز میں ترقیاتی کاموں کو بھی انجام دیا جانا چاہئے۔ظہیر رمضانی نے میونسپل کمشنر کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وارڈز میں ترقیاتی کاموں کو انجام نہیں دیا گیا تو وارڈس میں ٹیکس بھی وصول کرنے نہیں دیں گے۔نائب صدر نشین بلدیہ ظہیر رمضانی نے “استا لکشمی اسپننگ مل” کے بقایاجات پر بھی کونسل میں آواز بلند کی۔جس کا ٹیکس تقریباََ 5 کروڑ ہیں وصول کرنے کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

ظہیر رمضانی نے رکن اسمبلی پایل شنکر کو شہر کی ترقی و دیگر امور پر مختلف تجاویز پیش کی۔جس پر رکن اسمبلی نے میونسپل چیرمین اور وائس چیئرمین،کونسل ممبران اور عہدیداران کے تال میل سے شہر کی ترقی کرنے کا مشورہ دیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *