امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ہماری انگلی ٹریگر پر ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ معاہدہ ہونے کے باوجود امریکا پر سب سے زیادہ بداعتمادی اور بدگمانی ہے، امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ہماری انگلی اب بھی ٹریگر پر ہے۔

 اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ حتمی طور پر طے بھی پا جائے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری بھی حاصل ہو جائے، تب بھی امریکا پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سفارتی محاذ اور عسکری محاذ کے درمیان فاصلہ بہت کم ہے اور ہمارا ہاتھ ٹریگر پر ہے۔

ان کا مزید کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائے گی، اس کا مطلب بین الاقوامی قوانین یا بحری جہاز رانی کے خلاف اقدام نہیں۔

باقر قالیباف نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں فراہم کی جانے والی خدمات کےلیے فیس وصول کرے گا، 300 ارب ڈالر ایران میں سرمایہ کاری کے لیے مختص کیے گئے ہیں، 300 ارب ڈالر کا ایک حصہ تعمیرِ نو پر خرچ ہوگا۔

 محمدباقر قالیباف نے کہا کہ عسکری، اقتصادی اور تکنیکی برتری کے باوجود امریکہ اور غاصب صہیونی حکومت اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر سکے۔

انہوں نے حالیہ جنگ کا موازنہ دفاعِ مقدس سے کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے نے ایرانی قوم کے کردار کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کر دیا۔ دفاعِ مقدس کے دوران عوام زیادہ تر مجاہدین کردار ادا کرتے تھے، جبکہ آج پورا ملک براہِ راست حالات سے متاثر ہوا اور عوام خود میدان میں موجود رہے۔

قالیباف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں چار اہم محاذ نمایاں ہیں۔ پہلا عسکری محاذ ہے جہاں مسلح افواج تدبر، شجاعت اور قربانی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، جبکہ دوسرا عوامی محاذ ہے جہاں عوام نے ابتدائی لمحات ہی سے بھرپور موجودگی کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ حساس اور فیصلہ کن مواقع پر میدان میں موجود رہتی ہے، اور یہی عوامی استقامت قومی طاقت کا بنیادی ستون ہے۔

 اسپیکر نے زور دیا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جارحیت اور ظلم کے مقابلے کی جدوجہد مختلف محاذوں پر جاری ہے اور تمام محاذ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر قوم کی کامیابی اور سربلندی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

قالیباف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے؛ ایران مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے، لیکن مذاکرات کو قومی اہداف کے حصول کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے، نہ کہ کمزوری کی علامت۔ فریقِ مقابل نے بھی محسوس کیا کہ ایران مذاکرات کے ساتھ ساتھ اپنے مفادات کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی میدان میں موجود طاقت، قومی یکجہتی اور فعال سفارت کاری نے ملک کے اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا اور حالیہ واقعات نے ثابت کیا کہ میدان اور سفارت کاری کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

قالیباف نے کہا کہ سب سے اہم مقصد قومی اہداف کا حصول اور عوام کی سلامتی کا تحفظ ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *