جنیوا، انسانی حقوق کے معاملے میں عالمی برادری کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے، ایرانی مندوب

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری کے دوہرے اور امتیازی رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے ایک سال بعد بھی ایران کو ایک متاثرہ ملک کے بجائے جواب دہ فریق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب علی بحرینی نے کہا کہ جون 2025 میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جارحیت کو ایک سال پورا ہونے پر ایران ان ہزاروں بے گناہ شہریوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے جو 12 روزہ اور 40 روزہ جنگ کے دوران جاں بحق ہوئے۔ ان حملوں کے متاثرین اور بچ جانے والے افراد کی فریاد کو عالمی برادری کے ایک بڑے حصے نے نظر انداز کیا۔

علی بحرینی نے کہا کہ جون 2025 کے بعد ایرانی عوام یا تو براہِ راست فوجی حملوں کا سامنا کرتے رہے یا مزید جارحیت اور طویل محاصرے کے خدشات کی زد میں رہے، تاہم انسانی حقوق کے دعویدار ممالک نے اس صورتحال پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ انسانی حقوق کونسل کی جانب سے قرارداد 61/1 کی منظوری، جس میں جارحیت کا شکار ملک کو ہی ہدف بنایا گیا، بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام کی غیر جانبداری اور ساکھ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے اپنی عزت، آزادی، عقائد اور حقِ خود ارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور ایک سال تک غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ جب ایران کو حملے کا خطرہ لاحق تھا، اس کے عہدیداروں سمیت سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا، شہریوں پر فضائی حملے کیے گئے اور اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں اور خواتین کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو ایسے حالات میں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا ردعمل اپنے دفاع اور فوری خطرات کو ختم کرنے کے لیے تھا اور اس کا مقصد مزید کشیدگی کو روکنا، اپنی علاقائی سالمیت اور شہری آبادی کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔

علی بحرینی نے خلیج فارس کو ایک ایسی تزویراتی خطہ قرار دیا جس کی سلامتی ناقابلِ تقسیم ہے اور کہا کہ خطے کا امن و استحکام بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بجائے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون اور احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایران نے خامیوں اور چیلنجوں کے باوجود جنگ بندی کو علاقائی امن اور اجتماعی سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے قبول کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کا خاتمہ صرف لڑائی کے اختتام تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے بعد جوابدہی، مؤثر تدارک، متاثرین کے لیے ہرجانے، بحالی اور ان کے وقار کی بحالی کے لیے عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں تاکہ ماضی کی خلاف ورزیوں کا ازالہ کیا جاسکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *