
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ جنگ رمضان کے دوران ملک کی دفاعی صنعت نے نمایاں پیش رفت کی اور اسٹریٹجک میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار پہلے سے زیادہ تیز رفتاری اور اعلیٰ درستگی کے ساتھ جاری رہی۔
ایرانی پارلیمنٹ میں مشرقی آذربائیجان کے نمائندوں کے ساتھ مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے صہیونی حکومت، امریکہ اور ان ممالک کا زیادہ طاقت کے ساتھ مقابلہ کیا جنہوں نے دشمن کی لاجسٹک معاونت کی اور اپنی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے دی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ایرانی دفاعی صنعت نے علمی و تحقیقاتی کمپنیوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اسٹریٹجک میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار میں تیزی پیدا کی اور مسلح افواج کے لیے نئے اور جدید ہتھیار تیار کیے، جنہیں جارح قوتوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔
بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن الرضا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنگ کے نتیجے میں ایران کی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں کمزور نہیں ہوئیں بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور ترقی یافتہ ہوئی ہیں۔
