نتن یاہو فیصلہ ساز حلقوں میں تقریباً تنہا ہو چکے ہیں، صہیونی اخبار

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی عبرانی اخبار معاریو نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اس وقت فیصلہ ساز حلقوں میں تقریباً تنہا ہو چکے ہیں اور ان کے پاس اب کوئی قریبی مشیر باقی نہیں رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے اور ان کی پالیسیوں میں اچانک تبدیلی کے امکان کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت میں بعض بااثر شخصیات ایسی بھی موجود ہیں جن کے مفادات ممکنہ طور پر اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہیں۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے کے ممالک، خصوصاً ایران، کے خلاف اسرائیلی حکومت کی تمام جارحانہ پالیسیاں اور اقدامات امریکا اور خود ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت انجام دیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فیصلہ ساز حلقوں میں بنیامین نتن یاہو کی تنہائی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ان کے آخری قریبی ساتھی رومن گوفمن کو موساد کا سربراہ مقرر کر دیا گیا، جس کے بعد وزیراعظم کے قریبی مشیروں کا دائرہ مزید محدود ہو گیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *