قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یہ یقین دلایا تھا کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایران میں تختہ پلٹ ہو جائے گا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ اس وجہ سے ٹرمپ نے نیتن یا پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا۔ امریکہ کے اعلیٰ مذاکرات کار اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسرائیل کے خلاف ہیں۔ نیتن یاہو کے الگ تھلگ پڑنے کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔
اکیلے پڑتے جا رہے ہیں نیتن یاہو، 48 گھنٹے میں اسرائیل کو امریکہ نے دیے 4 بڑے جھٹکے
