مارچ میں بل پیش کرتے وقت سویڈن کے وزیر برائے امیگریشن یوہان فورشیل نے کہا تھا کہ ’’جو لوگ صحیح طریقے سے رہنے کی کوشش نہیں کرتے، انہیں یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ سویڈن میں رہ سکیں گے۔‘‘


i
سویڈن کی پارلیمنٹ نے پیر (15 جون) کو ایک نیا قانون پاس کیا ہے، جس کے تحت افسران کو تارکین وطن (امیگرینٹس) کا رہائشی اجازت نامہ خراب رویے کی بنیاد پر منسوخ کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔ اس میں بقایا قرض ادا نہ کرنا، مقامی افسران کو اطلاع دیے بغیر کام کرنا اور شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے جیسی وجوہات شامل ہیں۔ یہ قانون نہ صرف زیر التوا رہائشی اجازت نامہ کی درخواستوں پر نافذ ہوگا بلکہ پہلے سے دیے جا چکے اجازت ناموں کا دوبارہ جائزہ لے کر انہیں منسوخ کیا جا سکے گا۔ یہ اقدام دائیں بازو کی حکومت اور اس کی اتحادی ’سویڈن ڈیموکریٹس‘ کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے۔ ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخاب سے قبل حکومت مسلسل امیگریشن قوانین کو سخت کر رہی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک من مانا قانون ہے، کیونکہ اس کے تحت ایسے رویے کی بنیاد پر بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جسے قانونی طور پر جرم قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اسٹاک ہوم واقع انسانی حقوق کی تنظیم ’سول رائٹس ڈیفنڈرز‘ نے کہا کہ یہ ’اچھے رویے والا قانون‘ لوگوں کے درمیان الجھن پیدا کرتا ہے کہ ان کی کون سی سرگرمی یا اظہار رائے ان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس سے قانون کی حکمرانی اور قانون کے سامنے برابری کے اصول کو کمزور کیا جاتا ہے۔
2022 کا انتخاب اس وعدے کے ساتھ جیتنے والی حکومت کا کہنا ہے کہ جو لوگ قوانین کی پاسداری نہیں کرتے یا جرم کرتے ہیں، ان کا ملک میں استقبال نہیں ہے۔ قانون میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ کون کون سے رویے ناقابل قبول مانے جائیں گے۔ حالانکہ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ واجب الادا قرض، ٹیکس ادا نہ کرنا، مجرمانہ سرگرمیاں اور انتہا پسند تنظیموں سے تعلقات جیسی وجوہات شامل ہو سکتی ہیں۔ ان معاملات کا جائزہ سویڈش مائیگریشن ایجنسی لے گی اور اس کے فیصلوں کے خلاف مائیگریشن کورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔ مارچ میں اس بل کو پیش کرتے وقت سویڈن کے وزیر برائے امیگریشن یوہان فورشیل نے کہا تھا کہ ’’جو لوگ صحیح طریقے سے رہنے کی کوشش نہیں کرتے، انہیں یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ سویڈن میں رہ سکیں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

