حیدرآباد: گولکنڈہ پولیس نے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے سنسنی خیز قتل کیس کو کامیابی کے ساتھ حل کرتے ہوئے واردات میں ملوث چار ملزمین کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے تیز رفتار اور باریک بینی سے کی گئی تحقیقات کے بعد تمام
ملزمین کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کی جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت شیخ محبوب عرف مسعود چاندی (26 سال) کے طور پر ہوئی ہے جو پیشے سے الیکٹریشن تھا اور کمہارواڑی
گولکنڈہ میں رہتا تھا۔مقتول یو ٹیوبر بھی بتایا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق مقتول نے جنوری 2025 میں رخسار بیگم سے پسند کی شادی کی تھی۔ رخسار کے بھائی شیخ زاہد عرف سہیل کو یہ شادی شروع سے ہی پسند نہیں تھی اور وہ
اس بات پر شدید ناراض رہتا تھا۔ شادی کے بعد بھی دونوں خاندانوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔مقتول کے ہاں دسمبر 2025 میں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کے بعد ملزم کی ناراضگی اور دشمنی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ چند روز قبل
ملزم زاہد اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ مقتول کے گھر پہنچا اور جھگڑا کرنے کے بعد رخسار کو زبردستی اپنے ساتھ لے گیا۔ اس دوران اس نے دھمکی دی تھی کہ وہ اپنی بہن کو مقتول کے ساتھ نہیں رہنے دے گا اور دونوں کے درمیان طلاق
کروائے گا۔ 12 جون کو دوپہر تقریباً 3 بجے ملزم زاہد اپنے رشتہ داروں زیشان نواب عرف جابر اور عامر نواب عرف لڈو کے علاوہ نفیس سلطانہ کے ہمراہ لوہے کی راڈ، چاقو اور لاٹھیوں سے لیس ہوکر مقتول کے گھر میں زبردستی داخل ہوا۔
ملزمین نے شیخ محبوب عرف مسعود چاندی پر حملہ کردیا۔ مقتول کے والد اور دیگر اہل خانہ نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی لیکن ملزمین نے انہیں دھکا دے کر دور کردیا۔پولیس کے مطابق زاہد نے مقتول کے سر پر لوہے کی راڈ سے وار کیا جبکہ
جابر نے چاقو سے سر اور جسم کے دیگر حصوں پر حملہ کیا۔ اسی دوران عامر نواب اور نفیس سلطانہ نے لاٹھیوں سے شدید مارپیٹ کی۔ حملے کے نتیجے میں مسعود چاندی موقع پر ہی گر پڑا ہلاک ہوگیا۔حملہ آوروں نے مقتول کے والد پر
بھی تشدد کیا جس کے باعث ان کے ہاتھ اور چہرے پر زخم آئے۔اے سی پی ٹولی چوکی سید فیاض کی نگرانی میں گولکنڈہ پولیس کی خصوصی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے 13 جون کو چاروں
ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ان کے پاس سے قتل یں استعمال ہتھیار بھی ضبط کرلئے گئے۔
