شادی کے بغیر لڑکے اور لڑکیوں کا ساتھ رہنے کا بڑھتا رجحان – حیدرآباد میں بڑھتا ہوا "کو-لیونگ” ہاسٹل کلچر،

حیدرآباد شہر میں تیزی سے فروغ پانے والا “کو-لیونگ” کلچر اور اس سے جنم لینے والے مسائل اب سماجی بحث کا موضوع بنتے جا رہے ہیں۔ ورکنگ ہاسٹلس کے مقابلہ میں زیادہ آزادی، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک ہی رہائشی ماحول میں رہنے کی سہولت، گھریلو طرز کی آسائشیں اور نسبتاً زیادہ پرائیویسی کی وجہ سے آئی ٹی ملازمین، کوچنگ کے لیے آنے والے طلبہ اور دیگر نوجوان بڑی تعداد میں کو-لیونگ ہاسٹل کا رخ کر رہے ہیں۔

 

تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان صرف مشترکہ رہائش تک محدود نہیں رہا بلکہ کئی مقامات پر شادی کے بغیر ایک ساتھ رہنے یعنی “لیو اِن ریلیشن شپ” کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ نوجوان اسے جدید طرزِ زندگی اور بدلتے حالات کی عکاسی قرار دیتے ہیں، جبکہ والدین اور روایتی سوچ رکھنے والے افراد اسے سماجی اقدار اور ثقافتی روایات کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایسے تعلقات میں اختلافات، دھوکہ دہی یا تنازعات کے بعد پولیس شکایات اور مقدمات کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، جس پر ماہرین تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

 

کورونا کے بعد مانگ میں اضافہ

اگرچہ حیدرآباد میں کو-لیونگ ہاسٹلز کئی برسوں سے موجود ہیں، لیکن کووِڈ وبا کے بعد اور خاص طور پر ہائبرڈ ورک کلچر کے فروغ سے ان کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کارپوریٹ کمپنیاں بھی اس شعبے میں داخل ہو چکی ہیں اور بہتر سہولیات کے ساتھ نسبتاً مناسب کرایوں پر رہائش فراہم کر رہی ہیں۔

 

ان مراکز میں سنگل روم کے ساتھ ڈبل اور ٹرپل بیڈ روم فلیٹس جیسی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔ ہر فرد کے لئے علیحدہ کمرہ جبکہ لیونگ روم، کچن، ڈائننگ ہال، جم اور گیمنگ ایریا مشترکہ طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ حامیوں کے مطابق اس ماحول سے نئے تعلقات، دوستیوں اور سماجی رابطوں میں اضافہ ہوتا ہے اور تنہائی کم ہوتی ہے۔

 

کو-لیونگ ہاسٹلس سہولیات کے لحاظ سے فی کس ماہانہ 12 ہزار سے 25 ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں، اور بڑی تعداد میں نوجوان یہ رقم ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہاسٹل منتظمین کے مطابق پہلے زیادہ تر رہائشی دیگر ریاستوں سے آتے تھے، لیکن اب تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے نوجوانوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

شہر میں 70 ہزار سے زائد افراد مقیم

مارکیٹ ماہرین کے مطابق ملک میں منظم کو-لیونگ مارکیٹ کا حجم تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے ہے، جس میں حیدرآباد کا حصہ تقریباً 750 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اندازوں کے مطابق شہر میں 400 سے زائد کو-لیونگ ہاسٹلز موجود ہیں جہاں 70 ہزار سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں۔

 

خاص طور پر آئی ٹی کاریڈور اور کوکٹ پلی کے اطراف ان مراکز کی تعداد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق آئی ٹی کمپنیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم نوجوانوں کی بڑی تعداد دوسری ریاستوں سے تعلق رکھتی ہے، جس کے باعث کو-لیونگ رہائش ایک مقبول متبادل بن چکی ہے۔

والدین سے حقیقت چھپانے کے واقعات

رپورٹ کے مطابق بعض نوجوان اپنے والدین کو یہ بتاتے ہیں کہ وہ صرف دوستوں کے ساتھ رہ رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ بطور جوڑے رہائش اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے کئی معاملات سامنے آ رہے ہیں جہاں نوجوان شادی سے گریز کرتے ہوئے بھی مستقل طور پر ایک ساتھ رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

 

آزادی یا بے راہ روی؟

ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ کو-لیونگ کا تصور بذاتِ خود مسئلہ نہیں، لیکن کئی مواقع پر یہ لیو اِن ریلیشن شپ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق شادی شدہ افراد بھی ملازمت یا تعلیم کی غرض سے خاندان سے دور رہتے ہوئے ایسے انتظامات کا حصہ بن رہے ہیں، جس سے خاندانی نظام متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

 

دوسری جانب نوجوانوں کا مؤقف ہے کہ ایک ساتھ رہنے سے ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور اگر تعلقات میں اختلاف پیدا ہو جائے تو علیحدگی اختیار کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

 

تاہم معاشرہ کے ذمہ دراوں کا الزام ہے کہ بعض کو-لیونگ مراکز منشیات اور شراب نوشی جیسی سرگرمیوں، نجی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں کے اڈے بنتے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حیدرآباد کے آئی ٹی کاریڈور میں حالیہ عرصے کے دوران لیو اِن ریلیشن شپ سے متعلق تنازعات اور ان کے نتیجہ میں درج ہونے والے مقدمات کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *