ایران۔امریکہ معاہدے پر دنیا بھر کی نظریں، اہم شرائط سامنے آگئیں

نئی دہلی: ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد دنیا بھر میں اس ڈیل پر دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ اس تناظر میں یہ سوالات زیر بحث ہیں کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نرم مؤقف اختیار کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں یا ایران نے ایک قدم

 

پیچھے ہٹایا ہے۔ 107 دنوں تک جاری رہنے والے اس بحران کے خاتمے میں یہ تازہ معاہدہ کس حد تک مؤثر ثابت ہوگا اس پر عالمی سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوزنے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے

 

کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق یہ شرائط ایک جامع اور وسیع تر معاہدے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
معاہدے کی اہم شرائط

 

* لبنان سمیت ایران کے اتحادی گروپوں کے خلاف جاری جنگی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
* امریکہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور اس کی خودمختاری کا احترام کرے۔

 

* امریکی بحریہ کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم کی جائے۔
* امریکہ ایران کے اطراف موجود اپنے تمام فوجی دستوں کے انخلا کا پابند ہوگا۔

 

* طے شدہ انتظامات کے تحت ایران 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمد و رفت کے لیے کھول دے گا۔
* ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم کی جائیں گی اور پیٹروکیمیکل مصنوعات و ان سے حاصل ہونے والے مالی فوائد مکمل طور پر ایران کو حاصل ہوں گے۔

 

* ایران کی تعمیر نو کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک 300 ارب ڈالر مالیت کا منصوبہ پیش کریں گے۔
* جوہری معاملات پر نئے معاہدے، امریکہ کی جانب سے عائد

 

بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے، نیز اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں کے حوالے سے 60 دن تک مذاکرات جاری رہیں گے۔

 

* ایران این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے) کے تحت ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

 

* مذاکرات کے دوران امریکہ خطے میں اضافی فوجی دستے تعینات نہیں کرے گا۔
* امریکہ ایران کے منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرے گا، جن میں سے نصف رقم مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی فراہم کی جائے گی۔

 

* معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا۔
* حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے منظوری دی جائے گی۔

 

مہر نیوز کے مطابق یہ شرائط ابتدائی اتفاق رائے کا حصہ ہیں اور مستقبل میں ایک جامع اور مستقل معاہدے کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *