بھارت نے امریکی سفارت کار کو طلب کر لیا، تجارتی جہازوں پر حملوں پر شدید احتجاج

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے معاملے نے بھارت اور امریکہ کے درمیان سفارتی تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفارتی مشن کے نائب سربراہ کو وزارت خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔

بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے موقف میں واضح کیا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور ایسی کارروائیاں بین الاقوامی بحری تجارت کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ حکام کے مطابق یہی پیغام امریکی سفارتی نمائندے تک پہنچا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارت کے وزیر جہاز رانی سربانندا سونووال نے اطلاع دی کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے تین بھارتی ملاح بحفاظت مل گئے ہیں۔ اس خبر کی تصدیق انڈین سی فاررز یونین کے سیکریٹری جنرل منوج یادو نے بھی کی۔

بھارتی حکومت اس واقعے پر پہلے ہی شدید ناراضگی کا اظہار کر چکی ہے۔ گزشتہ روز بھی امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے حملے کی وضاحت مانگی گئی تھی۔ نائب وزیر خارجہ ناگاراج نائیڈو نے امریکی سفارتی نمائندے جیسن میکس سے ملاقات میں اس کارروائی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

بھارت نے خاص طور پر اس آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت کی ہے جو پالاؤ کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور جس پر 28 افراد سوار تھے، جن میں 24 بھارتی شہری شامل تھے۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے موقف میں دعوی کیا ہے کہ مذکورہ جہاز ایرانی سمندری حدود کی جانب بڑھ رہا تھا، جس کی بنیاد پر اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔ تاہم نئی دہلی نے اس معاملے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے عالمی بحری سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *