
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج کے نائب سربراہ برائے روابط ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری علاقوں پر ایران کی مکمل نگرانی اور کنٹرول قائم ہے، لہٰذا کسی بھی جہاز کی آمد و رفت ایرانی حکام کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے سری لنکا کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کا حوالہ دیا جس میں ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز دنا کے دسیوں اہلکار شہید ہوئے تھے۔ ان کے بقول یہ جہاز امن و دوستی کی مشترکہ مشقوں اور تربیتی سرگرمیوں میں شریک تھا اور اس پر کوئی جنگی ہتھیار موجود نہیں تھے۔
ایڈمرل سیاری نے کہا کہ اس حملے میں شہید ہونے والے بحری جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ایران مناسب وقت پر اس کا جواب دے گا۔ انہوں نے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں 104 ایرانی جوان شہید ہوئے جبکہ 20 افراد کی میتیں اب تک سمندر سے نہیں مل سکیں۔
انہوں نے ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران کی ڈرون صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بغیر پائلٹ طیاروں کے شعبے میں ایران نے نمایاں پیش رفت کی ہے اور یہ نظام مختصر وقت میں کسی بھی صورتحال کے مطابق تیار کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کی پیداوار اور عملی استعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ایڈمرل سیاری نے مزید بتایا کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور اس کے مغربی حصے کی نگرانی سپاہ پاسداران کی بحری قوت کے ذمہ ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے مشرقی علاقے اور شمالی بحر ہند کی حفاظت ایرانی بحریہ انجام دے رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اہم سمندری گزرگاہ ایران کی دفاعی نگرانی میں ہے اور کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت ایران کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔
