مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذریعے نے ایران اور امریکہ کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی مسودے کی نئی تفصیلات جاری کی ہیں۔
مسودے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا فوری اور مستقل خاتمہ
2۔ امریکہ کا ایران کے داخلی امور میں عدم مداخلت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کے احترام کا عہد
3۔ 30 روز کے اندر بحری محاصرے کا مکمل خاتمہ
4۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے اطراف سے اپنی افواج کے انخلا کا عہد
5۔ ایرانی انتظامات کے تحت 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا
6۔ تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان کے مشتقات کی فروخت پر عائد پابندیوں کی معطلی اور ایران کو اپنی مالیاتی وسائل تک مکمل رسائی دینا
7۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران کی تعمیر نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے پیش کرنا
8۔ جوہری معاملات، تمام بنیادی و ثانوی امریکی پابندیوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل و بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں کے خاتمے کے لیے 60 روزہ مذاکرات
9۔ این پی ٹی معاہدے کے تحت ایران کے اس عہد کی تجدید کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
10۔ مذاکرات کے دوران امریکہ نہ تو خطے میں اپنی افواج میں اضافہ کرے گا اور نہ ہی کوئی نئی پابندی عائد کرے گا۔
11۔ حتمی مذاکرات کے 60 روزہ مرحلے میں ایران کے 24 ارب ڈالر منجمد اثاثے آزاد کیے جائیں گے، جن میں سے نصف رقم مذاکرات شروع ہونے سے قبل ایران کے اختیار میں دی جائے گی۔
12۔ معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ایک نگران طریقۂ کار کا قیام
13۔ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
14۔ منجمد اثاثوں کی نصف رقم کی بحالی، ایرانی تیل پر پابندیوں کی معطلی اور بحری محاصرے کے خاتمے سے قبل حتمی مذاکرات شروع نہیں ہوں گے، جبکہ حتمی مذاکرات صرف افزودہ مواد اور یورینیم افزودگی کے مستقبل، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کی اقتصادی تعمیر نو کے پروگرام تک محدود ہوں گے۔ ایران کے میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروہوں کی حمایت کے موضوعات کو قطعی طور پر مذاکراتی ایجنڈے سے خارج کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس مسودے کو ابھی ایران کے متعلقہ اداروں میں مزید غور و خوض اور حتمی منظوری کی ضرورت ہے۔
