واضح رہے کہ نیپال نے حال ہی میں اپنے کچھ درآمدی ضوابط میں ترمیم کی ہے، جس میں پھلوں اور دیگر زرعی مصنوعات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ’ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ‘ کو ضروری بنایا گیا ہے۔ اس پر ہندوستان نے کہا کہ وہ نئے معیارات کے تحت آم کی برآمد کو آسان بنا رہا ہے۔ حالانکہ ہندوستان نے اس پر نیپال سے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پیشگی مشاورت کے بغیر پلانٹ کی صحت کے اقدامات نافذ کر دیئے گئے۔ ہندوستان ڈبلیو ٹی او کے سینیٹری اور پلانٹ ہیلتھ اسٹینڈرڈز معاہدے اور بین الاقوامی پلانٹ پروٹیکشن کنونشن کے مسودے کے تحت دو طرفہ سطح پر اس معاملے کو اٹھا رہا ہے۔ وزارت نے کاروباریوں اور اسٹیک ہولڈروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف سرکاری اطلاعات پر بھروسہ کریں اور آم کی درآمد پر کسی بھی طرح کی پابندی سے متعلق غیر مصدقہ خبروں پر دھیان نہ دیں۔
جاپان کے بعد اب نیپال میں بھی ہندوستانی آم پر پابندی! سوشل میڈیا کے دعووں پر مرکزی حکومت کا بیان آیا سامنے
