
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کی علی الصبح ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب بعض شہروں میں فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق صوبہ فارس کے شہر مہر میں سب سے پہلے دھماکے جیسی آواز سنائی دی، تاہم مقامی ذرائع نے واضح کیا کہ یہ آواز شہر سے باہر فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے باعث تھی اور شہر کے اندر کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔
اسی دوران جزیرہ کیش سے بھی دھماکوں جیسی آوازوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ صوبہ ہرمزگان اور بوشہر کے مختلف شہروں سیریک، میناب، بندرعباس، قشم اور جزیرہ ہنگام کے رہائشیوں نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔
بندر کنگان میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم مقامی انتظامیہ کے مطابق ان کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔
دوسری جانب عسلویہ میں ملک کے مربوط فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایک کروز میزائل کو مار گرانے کی اطلاع دی گئی۔ سوشل میڈیا پر عسلویہ کی گیس اور ریفائنری تنصیبات پر حملے کی افواہیں گردش کرتی رہیں، لیکن مقامی حکام نے صنعتی اور ریفائنری علاقے میں کسی دھماکے کی سختی سے تردید کی۔
میدانی ذرائع کے مطابق بندرعباس کے مشرقی حصے میں بھی دوبارہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسی دوران سمندر میں ایرانی مسلح افواج اور امریکی افواج کے درمیان محدود نوعیت کی جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ذرائع کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیج فارس کے مختلف مقامات پر امریکی امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں۔
تاہم جمعرات کی صبح پیش آنے والے ان واقعات کے بارے میں ایرانی فوجی حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی جامع اور باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
