
حیدرآباد: حیدرآباد کے مضافاتی علاقے معین آباد کے فارم ہاؤس میں دو خواتین کے بہیمانہ قتل کے سنسنی خیز مقدمہ کی مرکزی ملزمہ کریما بیگم علاج کے دوران فوت ہوگئی۔ کریمہ بی نے تقریباً 24 روز قبل پولیس تحویل میں پوچھ تاچھ کے دوران تیزاب پی لیا تھا، جس کے بعد اسے ہاسپٹل منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زیرِ علاج تھی۔
یہ معاملہ اُس وقت منظر عام پر آیا تھا جب وقارآباد ضلع کے تانڈور سے تعلق رکھنے والی دو خواتین، عابدہ بیگم اور محبوب بی، پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھیں۔ پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ کریما بیگم، اس کے شوہر عبدالرحمن اور ان کے رشتہ دار نعیم نے قرض کی رقم واپس کرنے کا جھانسہ دے کر دونوں خواتین کو معین آباد کے ایک فارم ہاؤس پر بلایا اور قتل کرنے کے بعد نعشیں دفن کر دی تھیں۔
پولیس کے مطابق کریمہ بی اور اس کے شوہر نے مقتول خواتین سے قرض لیا تھا اور رقم کی واپسی کے مطالبات بڑھنے پر انہیں راستے سے ہٹانے کی سازش رچی۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمین صرف دو نہیں بلکہ قرض دینے والی مزید 6خواتین کو بھی اسی فارم ہاؤس پر بلا کر قتل کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے، تاہم وہ مشکوک حالات کے باعث وہاں نہیں پہنچیں اور یوں ان کی جان بچ گئی۔
پولیس نے تکنیکی شواہد اور لاپتہ افراد کی شکایات کی بنیاد پر ملزمین کو گرفتار کیا تھا، جن کے اعتراف کے بعد فارم ہاؤس سے دونوں خواتین کی نعشیں برآمد کی گئی تھیں۔ کریما بیگم کی موت کے بعد اس ہائی پروفائل کیس میں ایک نیا موڑ آگیا ہے، جبکہ پولیس دیگر ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی اور کیس کے باقی پہلوؤں کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
