ایران کے جوہری پروگرام کا حل صرف مذاکرات اور سیاسی راستے سے ممکن ہے، گروسی

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا ہے کہ اس مسئلے کا پائیدار حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے اور مذاکرات کے ذریعے پیش رفت کی جاسکتی ہے۔

الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں گروسی نے دعوی کیا کہ ایران کے جوہری مراکز پر معائنوں کی بحالی کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ضروری شرط ہے۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ایجنسی ایران کے اعلان کردہ یورینیم ذخائر کے بارے میں مکمل تحقیقات نہیں کرسکی۔

گروسی نے کہا کہ ایجنسی کا اندازہ ہے کہ ایران کا جوہری مواد اب بھی انہی مقامات پر موجود ہے جہاں حملوں کے آغاز کے وقت تھا، اور تہران نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اہم نکات پر اختلافات کے باوجود کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچتے دکھائی دیتے ہیں۔ آئی اے ای اے براہِ راست مذاکرات کا حصہ نہیں، تاہم وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

گروسی نے یہ بھی دعوی کیا کہ ایران قانونی طور پر اپنی جوہری سرگرمیوں سے متعلق ایجنسی کو آگاہ کرنے کا پابند ہے، جبکہ کسی ممکنہ معاہدے کے بعد اعلی درجے کی افزودہ یورینیم کی مقدار میں کمی یا اس کے خاتمے کو بہترین آپشن قرار دیا۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ کوئی بھی فوجی کارروائی ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *