مزاحمت کا اسلحہ ہرگز حوالے نہیں کریں گے، النجباء کا دوٹوک اعلان

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی مزاحمتی تنظیم النجباء نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے مزاحمت کے اسلحے کے حوالے سے اپنا حتمی موقف دہرایا ہے اور کہا ہے کہ جیسا کہ پہلے بھی اعلان کیا جا چکا ہے، وہ اپنے ہتھیار کسی صورت حوالے نہیں کرے گی۔

النجباء کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کے عوام اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے موجود مقدس اور منظم اسلحے کے بارے میں تحریک کا موقف مستقل، واضح اور ناقابل تبدیل ہے۔ بیان کے مطابق یہ موقف پہلے ہی 6 مئی 2026 کو تنظیم کے سیکریٹری جنرل اکرم الکعبی کے پیغام میں بیان کیا جا چکا تھا۔

بیان میں یاد دلایا گیا کہ شیخ اکرم الکعبی نے کہا تھا کہ بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور، اسرائیلی حکومت کی براہ راست ترغیب پر عراقی مزاحمت کے اسلحے کے خلاف مسلسل بیانات دے رہے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عراقی سیاست دانوں میں سے چند افراد دنیاوی مفادات کے حصول کے لیے امریکی-اسرائیلی کی تائید کر رہے ہیں اور ان عناصر کی آواز بن چکے ہیں۔

اکرم الکعبی نے تمام مزاحمتی گروہوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسے مطالبات کو مسترد کریں۔ ان کے بقول یہ باعث شرم ہے کہ ایسے بیانات دہرائے جائیں جو دراصل اسرائیلی اور امریکی موقف کی تاکید ہوں، جبکہ عراق اب بھی بیرونی مداخلتوں، فضائی خلاف ورزیوں اور خودمختاری کی پامالی کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مزاحمت کا اسلحہ ایک سرخ لکیر ہے، جو شہداء کی میراث اور عراق کے معزز قبائل کی عزت و وقار کی علامت ہے۔

الکعبی کے مطابق اسی اسلحے کے ذریعے عراق کو داعش اور اس کے امریکی حامیوں سے پاک کیا گیا، اور جب تک وہ زندہ ہیں اپنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر جانوں کی قربانی بھی دینی پڑے تو بھی مزاحمت کا اسلحہ حوالے نہیں کیا جائے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *