
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے عالمی جوہری ایجنسی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے امریکہ اور تین یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو سیاسی، جانبدارانہ اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔
عراقچی نے اپنے خط میں کہا کہ موجودہ بحران کا اصل ذمہ دار امریکہ ہے، لہذا اسے بورڈ آف گورنرز کے پلیٹ فارم کو اپنے غیرقانونی اقدامات کے لیے جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
انہوں نے امریکی قرارداد کے مسودے کو بدنیتی پر مبنی سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے رکن ممالک سے اس کی مخالفت کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جون 2025 میں بورڈ آف گورنرز کی قرارداد کی منظوری کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے، جن میں متعدد ایرانی شہری شہید ہوئے۔ کیا جوہری ایجنسی ایک بار پھر پرامن جوہری تنصیبات کے خلاف جارحیت کے جواز کا ذریعہ بننے جارہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں، جوہری سائنس دانوں اور ان کے اہل خانہ کے قتل کو ایجنسی کی تاریخ میں بے مثال واقعات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے بین الاقوامی قانون، عالمی امن، عدم پھیلاؤ کے نظام اور ایجنسی کے حفاظتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی قرارداد موجودہ صورتحال کے اسباب کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف نتائج پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جبکہ اصل بحران پیدا کرنے والے عوامل کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔
عراقچی نے رکن ممالک کو متنبہ کیا کہ ان کا فیصلہ صرف ایران کے جوہری معاملے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایجنسی کی ساکھ، خودمختاری اور این پی ٹی کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوگا۔ رکن ممالک ہوشیاری، غیرجانبداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قرارداد کو مسترد کریں تاکہ صورتحال مزید پیچیدہ نہ ہو۔
واضح رہے کہ ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا سیزنل اجلاس اس وقت ویانا میں جاری ہے، جہاں امریکہ نے ایران کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش کر رکھی ہے۔
