امریکی-صہیونی جارحیت کا قیامت خیز منظر؛ 35 سیکنڈ میں سات لاکھ بیس ہزار دھاتی ذرات کی بارش

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی ایران کے لامرد نامی چھوٹا سا شہر جو صوبہ فارس کے جنوب میں واقع ہے، چند سیکنڈز میں ایک ایسے سانحے کا شکار ہوا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جسے انسانی تاریخ کے دردناک ترین واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ سانحہ تقریباً تین ماہ قبل اس وقت پیش آیا جب چار میزائل چند ہی لمحوں میں شہر کے رہائشی علاقوں کے اوپر فضا میں پھٹ گئے اور ہزاروں کی تعداد میں باریک دھاتی ذرات ایک محدود شہری حصے پر برس گئے۔

تحریر میں بتایا گیا ہے کہ ہر میزائل میں تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار کے قریب دھاتی ذرات موجود تھے، اور یوں مجموعی طور پر تقریباً سات لاکھ بیس ہزار باریک گولیاں چند لمحوں میں ایک گنجان آباد علاقے پر گر گئیں۔

یہ واقعہ جنوبی فارس کے اس شہر میں پیش آیا جس کی آبادی تقریباً تیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے، اور یہ بارش نما حملہ چند مخصوص محلوں تک محدود رہا جن میں رہائشی علاقے، اسکول اور کھیل کے میدان شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جہاں گھروں کی دیواریں، دروازے، کھڑکیاں اور چھتیں باریک سوراخوں سے بھر گئیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ دھاتی ذرات شدید رفتار سے شہری علاقوں سے ٹکرائے۔

کئی گھروں میں دو سو سے زائد نشانات پائے گئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ کس قدر شدت اور وسعت کے ساتھ کیا گیا تھا۔

متاثرین میں کمسن بچوں کے نام بھی شامل ہیں جن میں آوینا، حلیمہ، الہام، ایلیا اور عبدالمصور جیسے بچے شامل ہیں جو کھیل کود یا روزمرہ زندگی میں مصروف تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات کو محض “غیر عسکری نقصانات” جیسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ براہ راست عام شہری اور معصوم بچے اس حملے کی زد میں آئے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایک جدید میزائل نظام کے تجرباتی استعمال کا حصہ تھی، جس میں میزائل فضا میں مخصوص اونچائی پر پہنچ کر پھٹ جاتے ہیں اور اپنے اندر موجود ہزاروں باریک ذرات کو ایک وسیع دائرے میں پھیلا دیتے ہیں۔

ہر میزائل تقریباً ۳۵ سیکنڈ کے اندر ہدف تک پہنچا اور اسی مختصر وقت میں پورا علاقہ تباہی کی لپیٹ میں آ گیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً ۱۷۰ افراد اس حملے میں شہید اور زخمی ہوئے، اور ان میں کوئی بھی شخص فوجی نوعیت کا نہیں تھا۔

لامرد کا یہ سانحہ صرف ایک شہر کا واقعہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جسے نظر انداز کرنا تاریخ اور انسانیت دونوں کے لیے خطرناک ہوگا، کیونکہ اگر ایسے واقعات محفوظ نہ کیے گئے تو وہ اجتماعی یادداشت سے مٹ سکتے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *