ڈبلیو ایچ او نے اطلاع دی ہے کہ یہ وبائی بیماری ’بنڈی بگیو‘ وائرس کی وجہ سے ہے، جس کے لیے کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ ایبولا کی تمام اقسام کی علامات تقریباً یکساں مانی جاتی ہیں حالانکہ یہ آہستہ آہستہ سنگین ہوتی جاتی ہیں۔ شروعات میں اس کے انفیکدشن فلو جیسے ظاہر ہوتے ہیں، جیسے اچانک تیز بخار، سردرد، پٹھوں اور جوڑوں میں درد، تھکاوٹ اور کمزوری۔ اس کے کچھ دنوں بعد قے، اسہال، پیٹ میں درد اور گلے میں خراش جیسے مسائل بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے مرض بڑھتا ہے، آنکھوں، مسوڑھوں یا جسم کے دیگر حصوں میں بغیر وجہ خون بہنا، چوٹ جیسے نشان پڑنا، سانس لینے میں دشواری اور کئی معاملوں میں اعضاء کا فیل ہونا جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ انفیکشن کے 2 سے 21 دنوں کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
کانگو میں ایبولا پر وبال، غلط جانچ اور لاش نہ ملنے سے پھوٹ رہا عوام کا غصہ
