لبنان کی جنگ میں اسرائیل کی برتری کو چیلنج، حزب اللہ کے 11 بڑے اسٹریٹجک کامیابیاں سامنے آگئیں

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں جاری جنگ کو خطے کے دیگر تنازعات سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ یہ محض ایک روایتی فوجی تصادم نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف وسیع تر مزاحمتی محاذ کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ میں صرف اسلحے یا ٹیکنالوجی کی برتری فیصلہ کن عنصر نہیں، بلکہ حکمت عملی، وقت کے درست استعمال، ذہنی برتری اور اہداف کی نئی تشکیل بھی بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔

لبنانی خبر رساں ویب سائٹ العہد نے حزب اللہ کی 11 اہم کامیابیوں کا ذکر کیا ہے، جنہوں نے میدان جنگ اور سیاسی سطح پر اسرائیل کے لیے نئی مشکلات پیدا کیں اور مزاحمت کے حق میں طاقت کا توازن تبدیل کیا۔

اسرائیل کے اچانک حملے کی حکمت عملی ناکام

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کے اچانک اور فیصلہ کن حملے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ اس طرح جنگ میں پہل کا عنصر، جو پہلے اسرائیل کے حق میں تھا، اب دونوں فریقوں کے پاس برابر ہے۔

ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی کو چیلنج

2 مارچ سے قبل اسرائیل کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں ایک مستقل دباؤ کا ذریعہ تھیں، تاہم حزب اللہ نے اس سلسلے کو توڑ کر اسرائیل کی پالیسی کو غیر مؤثر بنا دیا۔

حزب اللہ کی تیاریوں نے اسرائیل کو حیران کر دیا

اسرائیلی فوجی کمانڈروں کے اعتراف کے مطابق حزب اللہ کی عسکری تیاریوں اور جنگی حکمت عملی نے اسرائیل کو حیرت میں ڈال دیا۔ رپورٹ میں اسے اسرائیلی انٹیلی جنس کی بڑی ناکامی قرار دیا گیا ہے۔

اسٹریٹجک گھات کا الٹ جانا

رپورٹ کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے مجاہدین پر گھات لگا کر حملے کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا، لیکن حالات اس کے برعکس ہو گئے اور خود اسرائیلی فوج ایک پیچیدہ اسٹریٹجک جال میں پھنس گئی۔

فیصلہ کن فتح کا خواب ادھورا

حزب اللہ نے اسرائیل کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کیا کہ تنظیم کو غیر مسلح کرنا فوری طور پر ممکن نہیں۔ اس تبدیلی نے اسرائیل کے جنگی اہداف کو محدود کر دیا۔

قبضہ اسرائیل کے لیے مستقل بوجھ بن گیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی اب اس کے لیے مالی، انسانی اور سیکیورٹی اعتبار سے مہنگی پڑ رہی ہے اور حزب اللہ کی تھکا دینے والی مزاحمت کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

نئی جنگی مساوات قائم

حزب اللہ نے ایران کی حمایت سے اسرائیل کی کارروائیوں پر نئی پابندیاں عائد کیں، جس سے یہ جنگ صرف لبنان تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک وسیع علاقائی توازن کا حصہ بن گئی۔

 جنگ اسرائیل کے اندر تک پہنچ گئی

رپورٹ کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کے سیاسی نظام میں بھی اختلافات کو بڑھا دیا ہے، جہاں فوج، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔

اسرائیل کے لیے پسپائی بھی ایک آپشن بن گئی

جنگی اخراجات اور انسانی نقصان میں اضافے کے باعث اسرائیل کے لیے مقبوضہ علاقوں میں موجود رہنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، جس سے پسپائی کا امکان بھی زیر غور آنے لگا ہے۔

حزب اللہ نے اپنے اتحادیوں کا اعتماد بحال کیا

حزب اللہ نے اپنے حامیوں اور اتحادیوں کا اعتماد دوبارہ حاصل کرتے ہوئے خود کو خطے کی آئندہ سیاسی اور عسکری طاقتوں میں ایک اہم قوت کے طور پر منوا لیا ہے۔

 نئی مذاکراتی حقیقت مسلط

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب خطے میں کوئی بھی سیاسی معاہدہ لبنان اور حزب اللہ کے مؤقف کو نظرانداز کرکے ممکن نہیں رہا، جس سے مزاحمت کا سیاسی وزن مزید بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام کامیابیاں مجموعی طور پر جنگ کی نوعیت میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہیں، جہاں روایتی غیر متوازن جنگ اب ایک پیچیدہ اسٹریٹجک توازن میں تبدیل ہو چکی ہے۔ حزب اللہ کی یہ کامیابیاں اگرچہ حتمی فتح نہیں، تاہم انہوں نے اسرائیل کے لیے اپنے اہداف حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *