
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی وزارت خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور کے نائب وزیر کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ جنگ کا مستقل خاتمہ، نقصانات کا ازالہ، محاصرہ اور غیر قانونی پابندیوں کا خاتمہ، نیز ایران کے حقوق کا احترام تہران کے بنیادی مذاکراتی اصول ہیں۔
کاظم غریب آبادی نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ حقیقی امن تحقیر، دھمکیوں اور زبردستی شرائط کے ذریعے قائم نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی فریق خود جنگ، محاصرہ، پابندیوں اور طاقت کے استعمال میں ملوث ہو اور ایران کے مؤقف کو صرف اس لیے رد کر دے کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر مبنی نہیں، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مقصد امن نہیں بلکہ سیاسی دباؤ ڈالنا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے مطالبات غیر معمولی نہیں بلکہ کسی بھی سنجیدہ اور پائیدار معاہدے کے لیے کم سے کم ضروری شرائط ہیں، جو اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق بحران کے خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
غریب آبادی نے کہا کہ جنگ بندی کی بات کرتے ہوئے محاصرہ جاری رکھنا، سفارت کاری کا دعویٰ کرتے ہوئے پابندیاں بڑھانا، اور خطے میں استحکام کی بات کے ساتھ کشیدگی پیدا کرنے والوں کی حمایت کرنا دراصل سفارت کاری نہیں بلکہ دباؤ کی پالیسی کو نئے انداز میں جاری رکھنا ہے۔
