
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کا حالیہ 14 نکاتی منصوبہ، جو پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا، مکمل طور پر جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور اس میں جوہری مسئلے سے متعلق کسی قسم کی بات موجود نہیں۔
تفصیلات کے مطابق، اسماعیل بقائی نے ٹی وی چینل سے گفتگو میں بتایا کہ بعض ذرائع ابلاغ میں جوہری تفصیلات کے حوالے سے جو دعوے کیے جا رہے ہیں، ان کا ایران کے اس منصوبے سے کوئی تعلق نہیں اور ایسی تمام باتیں بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران کی توجہ جنگ بندی کے بنیادی نکات پر ہے اور یہ معاملہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ لبنان سمیت پورے خطے میں جنگ کے خاتمے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ جو باتیں میڈیا میں جوہری مذاکرات کے حوالے سے بیان کی جا رہی ہیں، ان میں سے بعض پچھلے دو ادوار کی جوہری بات چیت سے متعلق ہیں، وہی مذاکرات جن کے بعد صہیونی حکومت اور امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کی۔
ترجمان وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر ایران جوہری مذاکرات نہیں کر رہا، جبکہ آئندہ کے فیصلے مناسب وقت پر کیے جائیں گے۔
انہوں نے امریکہ کی جانب سے وعدوں پر عملدرآمد کی ضمانت کے سوال پر کہا کہ وہ ضمانت کے لفظ سے اتفاق نہیں رکھتے، کیونکہ ایران کی اصل ضمانت اس کی اپنی طاقت اور اس کے مؤثر دباؤ کے ذرائع ہیں، جنہیں بہترین انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔
بقائی نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کے 14 نکاتی منصوبے پر اپنا جواب پاکستان کو منتقل کر دیا ہے، جسے ایران نے وصول کر لیا ہے اور اب اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ مناسب ردعمل بعد میں دیا جائے گا۔
