زندہ اسماعیل کو سرکاری کاغذات میں مردہ لکھ دیا گیا، بیٹے اور پولیس پر ملی بھگت کے سنگین الزامات، بزرگ انصاف کے لئے دربدر

لکھنو -2مئی ( اردولیکس ڈیسک) اتر پردیش کے مظفر نگر سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جس نے پولیس نظام اور انتظامی عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 75 سالہ بزرگ اسماعیل ان دنوں خود کو زندہ ثابت کرنے کے لیے دربدر بھٹک رہے ہیں۔ ہاتھ میں کاغذات لیے وہ ایس ایس پی دفتر کے چکر لگا رہے ہیں کیونکہ پولیس کی ایک رپورٹ میں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ اس پورے معاملے میں ان کے اپنے بیٹے اور پولیس کی ملی بھگت شامل ہے۔

 

یہ معاملہ ککرولی پولیس اسٹیشن علاقے کے گاؤں کمھیڑا کا ہے، جہاں رہنے والے اسماعیل کا اپنے بڑے بیٹے عابد کے ساتھ مکان کو لے کر کافی عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔ بزرگ کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کے ذریعے جائیداد ہتھیانے کی کوشش کی۔ تنازع بڑھنے پر معاملہ پولیس تک پہنچا، لیکن یہاں جو کچھ ہوا اس نے کیس کو مزید الجھا دیا۔ اسماعیل کے مطابق بیٹے نے پولیس سے مل کر سازش کی تاکہ انہیں کاغذات میں مردہ ظاہر کرکے جائیداد پر قبضہ کیا جا سکے۔

 

متاثرہ شخص کے مطابق پولیس اسٹیشن انچارج کی جانب سے اعلیٰ حکام کو بھیجی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں انہیں مردہ بتایا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ رپورٹ میں ایس ایچ او نے خود موقع پر جا کر جانچ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب افسر نے موقع کا معائنہ کیا تو ایک زندہ شخص کو مردہ کیسے قرار دے دیا گیا؟ اسماعیل نے ایس ایس پی دفتر میں شکایت درج کراتے ہوئے اس رپورٹ کی کاپی بھی پیش کی ہے جس میں ان کا نام مردوں کی فہرست میں شامل ہے۔

 

اس واقعہ کے بعد بزرگ اسماعیل ذہنی طور پر شدید متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں پولیس سے بھی خوف محسوس ہونے لگا ہے اور وہ اپنے ہی گھر جانے سے گھبرا رہے ہیں۔ انہوں نے ایس ایس پی سے غیر جانبدارانہ جانچ اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ انتظامی حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ ایک زندہ شخص کو سرکاری دستاویزات میں مردہ قرار دینا نظام کی بڑی خامی اور ممکنہ بدعنوانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس سنگین معاملے میں کیا کارروائی کرتی ہے اور کیا اس بزرگ کو انصاف مل پاتا ہے یا نہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *