14 سال بعد انصاف کی جیت: فلم “انقلاب” کیس میں سلمان حیدر و ساتھی بری
حیدرآباد (سفیر نیوز): طویل 14 سالہ قانونی جدوجہد کے بعد آخرکار انصاف کی جیت ہوئی۔ نامپلی عدالت نے معروف ہدایتکار سلمان حیدر اور ان کے ساتھیوں کو ایک متنازعہ مقدمے میں بری کر دیا۔
یہ مقدمہ تقریباً 14 سال قبل اس وقت درج کیا گیا تھا جب حیدرآباد میں اصلاحی مقصد کے تحت “انقلاب” کے نام سے ایک اردو فلم بنائی گئی تھی۔ اس فلم میں جادو ٹونہ، عملیات اور توہمات کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے نام نہاد جادوگروں کا پردہ فاش کیا گیا تھا۔ تاہم، اس فلم کو بعض حلقوں نے مذہبی عقائد سے جوڑتے ہوئے تنازعہ کھڑا کیا۔
اسی دوران وحید الدین حیدر جعفری اخباری کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کروائی گئی، جس کے نتیجے میں ہدایتکار سلمان حیدر کو گرفتار بھی کیا گیا تھا اور فلم سے متعلقہ کیمرہ و دیگر سازوسامان ضبط کر لیا گیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے طویل سلسلے کے بعد آج نامپلی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے سلمان حیدر اور دیگر تمام ملزمان کو بری کر دیا، جسے انصاف کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم، سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ ان 14 برسوں کے دوران جو ذہنی اذیت، مالی نقصان اور مشکلات پیش آئیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ مزید برآں، پولیس کی جانب سے ضبط کیے گئے کیمرے اور دیگر آلات کیا اسی حالت میں واپس کیے جائیں گے یا نہیں، اس پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، بریت کے بعد ملزمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضبط شدہ سامان کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کریں، اور اگر سامان کو نقصان پہنچا ہو تو اس کے ازالے کے لیے بھی قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف سلمان حیدر اور ان کی ٹیم کے لیے ایک بڑی راحت ہے بلکہ تخلیقی آزادی اور اصلاحی کوششوں کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
