امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں خاص طور پر فیملی پلاننگ پروگرام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک میں خواتین کے لیے بنیادی صحت خدمات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔ مقامی نرس کیفن اوجونگا نے بتایا کہ امریکی امداد کے ذریعے چلنے والے موبائل کلینکس پہلے مفت برتھ کنٹرول، زچگی سے متعلق معائنے اور دیگر طبی سہولیات فراہم کرتے تھے، مگر فنڈنگ رکنے کے بعد یہ سہولتیں یا تو بند ہو گئیں یا انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
مزید یہ کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران مختلف ممالک میں طبی اداروں اور غیر منافع بخش تنظیموں نے عملے کی برطرفیوں، ادویات کی قلت اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان مسائل نے پہلے سے کمزور صحت نظام کو مزید بحران کا شکار بنا دیا ہے۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کے پاس متبادل سہولیات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، جس کے باعث ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
