ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ایران کی حکومت میں عدم اتفاق ہے، اس لیے ہم نے اپنے حملے کو روکنے اور جنگ بندی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جب تک کہ وہ ایک مشترکہ تجویز پیش نہیں کرتے۔‘‘ اس درمیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد کا اپنا مجوزہ دورہ رد کر دیا، جہاں ایران کے ساتھ دوسرے دور کی بات چیت ہونی تھی۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ فی الحال تہران کے رخ کا انتظار کر رہا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایران نے ابھی تک بات چیت میں شامل ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس نے صاف کہا ہے کہ مذاکرہ سے پہلے امریکہ کو ناکہ بندی ہٹانی ہوگی۔
